چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ رواں سال جولائی میں درآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 26 فیصد بڑھ گیا۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معیشت میں سرگرمی بڑھنے کے ساتھ بیرونی ادائیگیوں کا دباو¿ بھی دوبارہ شدت اختیار کر رہا ہے، حکومت کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ جولائی میں 80 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کی گئیں، جن کی مالیت 224 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ بچوں کے دودھ اور کریم کی درآمد 25 فیصد بڑھ کر ایک کروڑ 87 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ پام آئل، سویابین، مصالحوں، چینی اور دالوں سمیت متعدد اشیائے ضروریہ بھی بیرون ملک سے منگوائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ 112 میٹرک ٹن چینی کی درآمد بھی ریکارڈ ہوئی، جو مقامی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے انتظام سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت درآمدی اشیا کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار بڑھانے اور زرعی شعبے کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دے۔

Leave a Reply