کالم:شاہنواز فاروقی
افراد اور قوموں کے لیے عقیدے یا نظریہ حیات کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے۔ افراد اور قومیں ہر چیز پر سودے بازی کرسکتی ہیں مگر عقیدے اور نظریہ حیات پر نہیں۔ ٹروٹسکی روس کا بڑا انقلابی دانش ور تھا اس نے روسی انقلاب میں ہر اوّل دستے کا کردار ادا کیا تھا مگر اسے روسی قیادت کے ساتھ سوشلزم کی تشریح اور تعبیر پر اختلاف ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ریاست دشمن قرار پا گیا اور اسے روس چھوڑنا پڑ گیا۔ لیکن روس کے حکمرانوں نے دیار غیر میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔ انہوں نے ٹروٹسکی کو تلاش کیا اور مار دیا۔ ایزرا پاﺅنڈ امریکا کا ”شاعر اعظم“ تھا۔ وہ ایلیٹ جیسے نوبل انعام یافتہ شاعر کا استاد تھا۔ مگر وہ اٹلی گیا تو اس نے اٹلی کے فسطائی نظام کی حمایت میں ریڈیو پر ایک تقریر کر ڈالی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی سی آئی اے اس کی دشمن ہوگئی اور ایزرا پاﺅنڈ کی جان بچانے کے لیے پاﺅنڈ کے دوستوں کو اسے نفسیاتی اسپتال میں نفسیاتی مریض کی حیثیت سے داخل کرنا پڑا۔ تب کہیں جا کر ایزرا پاﺅنڈ کی جان بچی۔ آپ ذرا مودی کے ہندوستان میں ”ہندوتوا“ کی مخالفت کرکے دیکھیں، اگلے دن یا تو آپ جیل میں ہوں گے یا آپ کو مار دیا جائے گا۔ آپ اسرائیل میں یہودیت اور صہیونیت کی مخالفت نہیں کرسکتے۔ اس کا انجام بھی جیل یا موت ہوگی۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر آپ سیکولر یا لبرل دانش ور ہیں تو آپ اپنے کالم یا ٹی وی کے ٹاک شو میں کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا بلکہ قائداعظم تو پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ یہ پڑھتے اور سنتے ہوئے اور اپنے کالموں میں اس کا جواب دیتے ہوئے ہمیں 36 سال ہوگئے مگر یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اس کی تازہ ترین مثال سیکولر اور لبرل دانش ور فرنود عالم کا روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا حالیہ کالم ہے۔ اس کالم میں فرنود عالم نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں۔
”جواصل بات ہے وہ جناب نے مطلع میں ہی کہہ دی۔ آزادی کی تحریک کے پیچھے کوئی مذہبی ایجنڈا نہیں تھا۔ معاملہ یہ تھا کہ کچھ لوگ ثانوی حیثیت میں رہنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ مسلمان تھے۔ لوگ اپنے اپنے پس منظر کے ساتھ آزادی کی تحریک سے جڑ رہے تھے۔ جن کا پس منظر مذہبی تھا، انہوں نے مذہبی بیانیے تخلیق کیے۔ یہ ضمنی بیانیے تھے۔ تحریک کو متحد رکھنے کے لیے ضمنی بیانیوں کو گوارا کیا جاتا ہے۔
تحریک آزادی کا بنیادی خاکہ وہی ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست کو پہلی دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ یہ خاکہ کسی بھی قسم کی ضمنی آلودگی سے پاک تھا۔ اس خاکے کے پیچھے دراصل یہ احساس تھا کہ ہم ثانوی حیثیت کا دکھ سمجھتے ہیں۔ ہم کسی اور کو یہ دکھ نہیں دیں گے۔ ہماری مملکت کسی کی شہری حیثیت پر اس کے عقیدے کی وجہ سے سوال نہیں اٹھائے گی۔ ہم نے قائد کے اس خاکے کو ایک طرف رکھ دیا۔ اس کے برعکس ہم نے ایک بیانیہ تشکیل دیدیا۔ یہ کام ہمارے لیے اتنا ضروری تھا کہ ہم نے آئین کی تشکیل کو بھی التوا میں ڈال دیا۔ یعنی ہمارے آس پڑوس میں جس سال آئین تشکیل دیا جارہا تھا ہم اسی سال بیانیہ ترتیب دے رہے تھے۔
قائد اکثریت اور اقلیت کی لکیر کو مٹانا چاہتے تھے۔ بیانیے میں ہم نے اکثریت اور اقلیت کی اس لکیر کو ہی بنیادی طور پر واضح کر دیا۔ قائد ایسی مملکت کی بات کر رہے تھے جس میں جمہوریت ہو، پیشوائیت نہ ہو۔ بیانیے میں پیشوائیت کو بنیادی عنصر کے طور پر لے لیا گیا۔ عقیدے کو کوالیفکیشن مان لیا گیا۔ اس صورت حال سے غیر مسلم اقلیت پہلے دن ہی گھبرا گئی۔ ان کے نمائندوں نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کچھ تجاویز بھی دیں مگر انہیں مسترد کردیا گیا۔ اب یہ بات تو بہت خوبصورت ہے کہ تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے کے باوجود سید ابوالاعلی مودودی کو پاکستان ہی آنا پڑا، مگر یہ بات کتنی عجیب ہے کہ پاکستان کی پرزور حمایت کرنے کے باوجود پہلے وزیر قانون جوگیندر ناتھ منڈل کو واپس بھارت جانا پڑا۔ یہ بات بھی خوب ہے کہ پاکستان میں ہر مسلم شہری کسی بھی منصب کا اہل ہے، مگر یہ بات کتنی عجیب ہے کہ غیرمسلم شہری اہم مناصب کے لیے ایمانداری اور اہلیت کے باجود بھی اہل نہیں ہیں“۔ قائداعظم اور اقبال کے بارے میں کہنے والوں نے ہر بات کہی ہے مگر ایسا کوئی شخص نہیں جس نے قائد اعظم یا اقبال کو منافق کہا ہو۔ ایک وقت تھا کہ قائداعظم کانگریس کے رہنما تھے اور سروجنی نائیڈو انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سب سے بڑا سفیر کہا کرتی تھیں لیکن پھر ایک وقت وہ آیا کہ قائداعظم ایک قومی نظریے کو ترک کرکے دو قومی نظریے کے علمبردار بن گئے اور دو قومی نظریہ سر سے پاﺅں تک ایک ”مذہبی نظریہ اور ایک مذہبی تشخص“ تھا۔ اس لیے قائداعظم نے اپنی تقریروں میں بار بار کہا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوﺅں کی ہر چیز جدا ہے۔ ان اک مذہب، ان کی تہذیب، ان کی تاریخ، ان کی سماجیات۔ اس سلسلے میں قائداعظم کی ایک درجن سے زیادہ تقاریر موجود ہیں۔ مگر سیکولر اور لبرل دانش ور ان تقاریر کا حوالہ ہی نہیں دیتے وہ صرف 11 اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں مگر یہ تقریر بھی اسلام کی اسپرٹ میں ڈوبی ہوئی ہے اس لیے کہ قائداعظم نے اس تقریر میں صرف اتنی سی بات کہی ہے کہ پاکستان میں ہندو اور عیسائی اپنے مذاہب پر عمل کرنے میں آزاد ہوں گے اور مسلمان اپنے دین کی پیروی کریں گے۔ اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی بنیادی ہے کہ پاکستان پنجاب، کے پی کے، سندھ، بلوچستان اور بنگال میں بن رہا تھا اور تحریک پاکستان یوپی یعنی اتر پردیش اور دلّی میں چل رہی تھی اور یہ وہ علاقے تھے جن کے مسلمان اپنے مذہب میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چنانچہ اگر پاکستان مذہبی ریاست کے بجائے ایک سیکولر ریاست ہوتا تو یوپی اور دلی کے مسلمان نہ اس کی حمایت کرتے نہ اس کے لیے تن من دھن سے کام کرتے اور یہ بات طے ہے کہ اگر تحریک پاکستان کی پشت پر دلی اور یوپی کے لوگ نہ ہوتے تو پاکستان کبھی وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ اس لیے کہ پنجاب پر 1946ءتک یونیسنسٹ پارٹی کا غلبہ تھا اور یونیسنٹ پارٹی انگریزوں کی پٹھو تھی۔ کے پی کے پر سرحدی گاندھی یعنی عبدالغفار خان کا قبضہ تھا اور وہ پاکستان کے سخت خلاف تھے۔ بلوچستان تحریک پاکستان میں شامل ہی نہیں تھا۔ اسے قائداعظم نے 1948ءمیں بلوچ سردار وں سے مذاکرات کرکے پاکستان کا حصہ بنایا۔ سندھ کا تحریک پاکستان میں صرف اتنا حصہ ہے کہ اس کی اسمبلی نے پاکستان کے حق میں ایک قرار داد منظور کی تھی۔ چنانچہ یوپی اور دلی کے مسلمانوں کی حما یت کے بغیر پاکستان کی تخلیق ناممکن تھی اور یوپی اور دلی کے باشعور مسلمان صرف ”اسلامی پاکستان“ کی حمایت کرسکتے تھے سیکولر پاکستان کی نہیں۔
یوپی اور دلّی کے مسلمانوں کے مذہبی شعور کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے تعلیم کے چار بڑے مراکز تخلیق کیے۔ ان چار میں سے صرف ایک مرکز ”جدید تعلیم“ سے متعلق تھا یعنی علی گڑھ کالج۔ باقی تین مراکز مذہبی تعلیم سے متعلق تھے۔ یعنی دیوبند اور بریلوی کا مدرسہ اور ندو العلماءجو لکھنو میں ہے۔ کیا ایسے خطوں کے مسلمان جب اسلام میں ڈوبے ہوئے ہوں تو وہ ایک سیکولر پاکستا ن کے لیے قربانیاں دے سکتے تھے؟ کیا وہ ایک سیکولر ریاست کے لیے تن من دھن کی بازی لگا سکتے تھے؟۔ یوپی اور دلی کے مسلمانوں کے مذہبی شعور اور مذہبی تشخص کا ایک اور بڑا ثبوت یہ ہے کہ خلافت ترکی میں ختم ہورہی تھی اور تحریک خلافت یوپی اور دلی میں چل رہی تھی۔ یہ خطے اس حوالے سے اس نعرے سے گونج رہے تھے۔
بولیں اماّں محمد علی کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
دلّی اور یوپی کے مسلمان خلافت تحریک کے لیے جلسے جلوس کررہے تھے۔ انگریزوں پر دباﺅ ڈال رہے تھے۔ خلافت تحریک یوپی اور دلی اور ایک حد تک بنگال میں اتنی مقبول تھی کہ گاندھی جیسا کٹر ہندو رہنما بھی اس کی حمایت کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس تحریک کے لیے چندہ جمع ہوا تو مال دار لوگوں نے لاکھوں کا چندہ دیا۔ عورتوں نے خلافت کے لیے اپنے زیورات لٹا دیے۔ کیا ایسے مذہبی اور اسلامی تاریخ کے پرستار مسلمان ایک سیکولر اور لبرل پاکستان کی حمایت کرسکتے تھے؟۔ نہیں فرنود عالم صاحب نہیں۔ یوپی اور دلی کے مسلمانوں نے سیکولر پاکستان کی نہیں ایک اسلامی پاکستان کی حمایت کی تھی۔ اس لیے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر بن رہا تھا اور دو قومی نظریہ ایک مذہبی نظریہ تھا۔ اس لیے کہ ہندو اور مسلمان دو جدگانہ مذاہب، دو جداگانہ تہذیبوں اور دو جداگانہ تاریخوں کے علمبردار تھے۔ 1940ئ میں تو ویسے بھی کسی نے سیکولر ازم کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ سیکولر ازم آج 80 سال بعد بھی مسلمانوں کے لیے اجنبی ہے۔ فرنود عالم پورے عالم اسلام میں ریفرنڈم کرالیں اور مسلمانوں سے پوچھیں کہ آپ کو اسلام چاہیے یا سیکولر ازم؟ تو دو ارب مسلمانوں کی عظیم اکثریت اسلام کے حق میں رائے دے گی۔
سیکولر اور لبرل لوگوں کی عادت کے مطابق فرنود عالم نے اپنے کالم میں یہ جھوٹ بھی گھڑا ہے کہ مولانا مودودی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اور مخالفت کے باوجود پھر پاکستان آدھمکے۔ تاریخی ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض ہے کہ مولانا مودودی یا جماعت اسلامی نے کبھی پاکستان کی مخالفت نہیں کی اگر کسی اخبار، رسالے یا کتاب میں یہ مخالفت موجود ہے تو اس کا ٹھوس ثبوت پیش کیا جائے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق متحدہ ہندوستان کی جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل قمر الدین خان نے 1941ئ میں مولانا مودودی کی ہدایت پر قائداعظم سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں قائداعظم نے مولانا مودودی کی دینی خدمات کی تعریف کی۔ یہ بات قمرالدین خان کے اس مضمون میں بیان ہوئی ہے جو کراچی کے ایک انگریزی رسالے Thinkers میں شائع ہوا تھا۔ مولانا مودودی کا ایک تبصرہ بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔
1946ئ میں پاکستان کی حمایت میں ریفرنڈم کا نتیجہ آیا تو مولانا مودودی نے فرمایا کہ اگر میں پاکستان میں ہوتا تو پاکستان کے حق میں ووٹ دیتا۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ 1948ئ میں ریڈیو پاکستان نے مولانا مودودی? کو اسلامی نظریہ? حیات پر تقاریر کے لیے مدعو کیا اور مولانا نے پانچ تقاریر کیں۔ مولانا مودودی اگر پاکستان کے مخالف ہوتے تو ریڈیو پاکستان جیسا سرکاری ادارہ کیوں مولانا کو تقاریر کے لیے بلاتا۔ مسلمانوں میں دو قومی نظریے کا شعور پیدا کرنے کیا سلسلے میں مولانا مودودی نے جو تاریخی کردار ادا کیا اس سے قائداعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان کے دست راست اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری مولانا ظفر احمد انصاری بے حد متاثر تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مولانا مودودی نے مسئلہ قومیت کے عنوان سے جو سلسلہ مضامین لکھا ہے وہ برصغیر کے مسلمانوں میں بے حد مقبول ہوا۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریے پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس بہت تیزی سے پھیلنے لگا۔ مولانا ظفر احمد انصاری نے اس مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ قرار داد پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے مختلف گوشوں سے ”حکومت الٰہیہ“ ”مسلم ہندوستان“ اور خلافت ربانی وغیرہ کی آوازیں بلند ہونے لگیں تھی۔ ان باتوں سے جہاں پاکستان کے حوالے سے مولانا مودودی کی پوزیشن واضح ہوتی ہے وہیں فرنود عالم کے اس خیال کی تکذیب بھی ہوتی ہے کہ قائداعظم سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔ ارے بھائی جب برصغیر کی پوری ملت اسلامیہ اسلامی پاکستان چاہتی تھی تو قائداعظم کیسے سیکولر پاکستان چاہ سکتے تھے؟

Leave a Reply