کالم:احمد حسن
سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانا آئی ایس پی آر کا کام نہیں یہ اسمبلیوں کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدے کے مطابق کراچی کو الگ نظام دیا تھا، جس پر سندھ میں دہرے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج ہوا، سندھ پیپلز پارٹی کے خلاف احتجاج کر رہا تھا، اس لیے ارکان صوبائی اسمبلی نے قیادت سے کہا کہ یہ نظام واپس لے لیں، پیپلز پارٹی نے مجبور ہو کر دہرا نظام واپس لیا۔ واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس بنانے سے متعلق بات کی تھی انہوں نے ابتدا میں واضح کیا تھا کہ محسن نقوی کی بات ان کی ذاتی رائے ہے، فوج اس پر تبصرہ نہیں کر رہی، اس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے 25 کروڑ ہے جبکہ ملک اب بھی صرف چار صوبوں پر مشتمل ہے اس لیے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ اچھی حکمرانی کے تقاضے پورے کر رہا ہے یا نہیں، اس معاملے پر سیاست دانوں، اقتدار میں موجود لوگوں اور عوام کے نمائندوں کو سنجیدہ بحث کرنی چاہیے اور اگر انتظامی تبدیلی یا نئے صوبوں کا فیصلہ ہو تو وہ عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے سچ کہا ہے کہ نئے صوبے بنانا آئی ایس پی آر کا کام نہیں ہے لیکن انہوں نے ادھورا سچ کہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی ادارے محکمہ وزیر یا افسر کا کسی دوسرے ادارے محکمے وزارت یا شعبے میں مداخلت کرنا غیر قانونی افسوسناک اور مسائل پیدا کرنے کا بہت بڑا سبب ہے، ہر ادارے اور ہر فرد کو صرف خود کو تفویض کردہ امور تک محدود رہنا چاہیے یہی نظم و ضبط کا تقاضا اور ترقی کا راستہ ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے بالکل برعکس صورتحال ہے، بیش تر ادارے اور افراد دوسروں کے کاموں میں دخل اندازی کرنے، بیانات دینے کو عادت بنا لیتے ہیں اور اسے ڈسپلن اور تہذیب کے خلاف نہیں سمجھتے بلکہ بعض مثالیں تو ایسی ہیں کہ ایک فرد اپنے کام کے سوا باقی سب کام کر رہا ہے، اس کی بڑی مثال کچھ ”شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے والے“ خواجہ آصف کی ہے جو وزیر دفاع ہیں لیکن دفاعی امور کے سوا ہر معاملے پر بیان داغتے رہتے ہیں، پاکستان میں دورے پر آنے والے دفاعی اور فوجی وفود سے ان کی ملاقات نہیں ہوتی، پتا نہیں ہمارے وزیر دفاع کے پاس ان سے ملنے کے لیے وقت نہیں ہوتا یا غیر ملکی مہمان خود ان سے ملنا نہیں چاہتے جبکہ وزیر دفاع خارجہ امور میں ضرور ٹانگ اڑاتے ہیں وہ خارجہ پالیسی، افغانستان، بھارت، ایران، مشرق وسطیٰ اور عالمی سفارت کاری پر براہ راست بیانات دیتے رہتے ہیں۔2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ان کا ایک معاملہ وزارت خارجہ کے ساتھ اختلاف کی شکل میں بھی سامنے آیا تھا ایک پاکستانی نڑاد برطانوی صحافی کی پاکستانی وفد میں موجودگی پر وزارت خارجہ نے کہا کہ اس خاتون کی موجودگی دفتر خارجہ کی منظوری سے نہیں تھی جبکہ خواجہ آصف نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ دفتر خارجہ کے اختیار میں تھا اور وہ خود اس خاتون کو اپنے پیچھے بٹھانے کے فیصلے کے ذمے دار نہیں تھے۔ اسی طرح وزیر خارجہ اسحاق ڈار وزارت تجارت اور وزارت خزانہ کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہتے ہیں انہوں نے لندن میں بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا کہ پاکستان اس معاملے پر غور کر رہا ہے بعد ازاں وزارت خارجہ کے ترجمان کو وضاحت جاری کرنا پڑی کہ وزیر خارجہ نے صرف معاملے کا جائزہ لینے کی بات کی تھی۔ وزیر اطلاعات عطائ اللہ تارڑ اپنے بیانات صرف میڈیا پالیسی تک محدود نہیں رکھتے، انہوں نے مختلف مواقع پر 9 مئی، ریاستی اداروں، دہشت گردی، بی ایل اے اور قومی سلامتی جیسے موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا، انہوں نے عمران خان کے مقدمات سے متعلق سخت بیانات دیے، وزیر اطلاعت نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور افغان جارحیت ہے کے بارے میں بیان دیا، افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت اور پاکستان مخالف بیانات کو بھی اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔
پیر 24 اگست کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران پہنچیں گے، عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، امریکی پابندیوں، علاقائی صورتحال اور مکہ معاہدے پر اہم بات چیت متوقع ہے، اس سے قبل بھی فیلڈ مارشل متعدد غیر ملکی دورے کر چکے ہیں خاص طور پر ایران، سعودی عرب، ترکیہ یہ وہی ممالک ہیں جو امریکا – ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی اور علاقائی سفارت کاری میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپریل میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے انہیں پاکستان کی امریکا – ایران ثالثی کا ایک مرکزی کردار قرار دیا تھا اسی طرح پاک فوج کے زیر انتظام یا اس سے وابستہ متعدد ادارے ایسے ہیں جن کی سرگرمیاں براہ راست جنگ، دفاعی حکمت عملی یا فوجی آپریشنز تک محدود نہیں بلکہ کاروبار، ذراعت، بینکاری، فرٹیلائزر، سیمنٹ، بجلی، ہاو?سنگ، تعلیم، صحت، ائرپورٹ سروسز، تعمیرات اور لاجسٹکس تک پھیلی ہوئی ہیں ان سب کو لفظی معنی میں فوج کے سرکاری محکمے کہنا درست نہیں، بہت سے ادارے ویلفیئر فاو?نڈیشن، ٹرسٹ، کمپنیوں یا کارپوریٹ اداروں کے طور پر کام کرتے ہیں جن کا مقصد سرونگ اور ریٹائرڈ فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے آمدنی پیدا کرنا بتایا جاتا ہے، فوجی فاو?نڈیشن ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے، اس کا مقصد سابق فوجیوں اور ان کے زیر کفالت افراد کی فلاح کے لیے آمدنی پیدا کرنا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہت بڑا صنعتی اور تجارتی گروپ بن گئی ہے، فوجی فاو?نڈیشن، کھاد، سیمنٹ، خوراک، گوشت، تیل اور گیس، بجلی پیدا کرنے، ونڈ انرجی، بینکاری، انشورنس، میرین ٹرمنلز اور پٹرولیم اور متعلقہ خدمات کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔
آرمی ویلفیئر ٹرسٹ 1971 میں قائم ہوا، پاکستان آرمی کی ویب سائٹ کے مطابق اے ڈبلیو ٹی ایک فنانشل اور انڈسٹریل گروپ ہے جس کا مقصد کمرشل ایکٹیوٹیز کے ذریعے آمدنی پیدا کر کے فوجی فلاحی ضروریات پوری کرنا ہے، اس کے مختلف منصوبوں میں عسکری بینک، عسکری جنرل انشورنس، عسکری ایوی ایشن، عسکری گارڈز، عسکری فیولز، عسکری سیڈز، عسکری ایپرل، زرعی منصوبے، شوگر مل، ریئل اسٹیٹ، ریسٹورنٹ، تعمیرات اور پراپرٹی شامل ہیں۔ بری فوج کی طرح پاک بحریہ اور پاک فضائیہ سے وابستہ بحریہ فاو?نڈیشن اور شاہین فاو?نڈیشن کے زیر انتظام بھی متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ کیا سندھ کے وزیر محنت سعید غنی اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی اس حوالے سے بھی کوئی بیان دے گی؟ وضاحت کرے گی۔
یہ آئی ایس پی آر ار کا کام نہیں، سعید غنی کا ادھورا سچ
adminshuja
← پچھلی خبر
مکہ معاہدہ اور نیا دفاعی نقشہ

Leave a Reply