کالم:رمیصاءعبدالمھیمن
”مستقبل کی پیش گوئی کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے خود تخلیق کیا جائے“۔ پیٹر ڈرکر۔عالمی سیاست میں مستقبل صرف نئی طاقت کے ابھرنے سے نہیں بدلتا؛ اصل تبدیلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب پرانی طاقت واحد انتخاب نہیں رہتی۔ مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ شاید اسی تبدیلی کا ابتدائی نقشہ ہے۔ اس کا مرکزی اصول غیر معمولی حد تک واضح ہے: ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ یہ کسی اچانک پیدا ہونے والے بحران کا فوری ردِعمل نہیں۔ اس پر تقریباً ایک سال سے مذاکرات جاری تھے اور جنوری تک اس کا مسودہ تینوں دارالحکومتوں کے پاس زیرِ غور تھا۔ یعنی مکہ میں صرف ایک معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے؛ ایک طویل تزویراتی سوچ رسمی شکل میں سامنے آئی ہے۔ اور یہی اس کا پہلا بڑا سوال پیدا کرتی ہے: آخر تین ایسے ممالک، جن کی معیشتیں، عسکری ساخت، خارجہ پالیسیاں اور فوری خطرات یکساں نہیں، اجتماعی دفاع کی ایک ہی لکیر پر کیوں آگئے؟ جواب شاید ”اسلامی ناٹو“ کے مقبول عنوان سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ کئی دہائیوں تک خلیجی سلامتی کی مساوات نسبتاً واضح تھی: خطرہ خطے کا، اسلحہ بڑی حد تک مغرب کا اور آخری عسکری ضمانت واشنگٹن کی۔ مگر حالیہ جنگ نے ایک غیر آرام دہ فرق نمایاں کردیا ہے۔ اسلحہ فراہم کرنا، فوجی موجودگی رکھنا اور سلامتی کی ضمانت دینا تین مختلف چیزیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ معاہدہ امریکا کے خاتمے کا اعلان نہیں؛ اس سے کہیں زیادہ اہم طور پر یہ اس دور کے خاتمے کا اشارہ ہوسکتا ہے جس میں علاقائی سلامتی کا صرف ایک قابل ِ تصور ضامن موجود تھا۔ مستقبل واشنگٹن کے بغیر شاید نہیں بن رہا، مگر اب صرف واشنگٹن کے ذریعے بھی نہیں بن رہا۔
اور اگر یہی تبدیلی اصل کہانی ہے تو اگلا سوال ناگزیر ہے: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب ہی کیوں؟ اس کا جواب ان کی مماثلت میں نہیں بلکہ ان کی مختلف نوعیت کی طاقت میں ہے۔ پاکستان روایتی معاشی پیمانوں پر بڑی عالمی طاقت نہیں، لیکن جوہری بازدار قوت، بڑی تجربہ کار فوج اور ایسا جغرافیہ رکھتا ہے جسے چین، ایران، افغانستان، بحرِ عرب اور خلیج سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ترکی ناٹو کے اندر رہتے ہوئے اپنی دفاعی صنعت، ڈرون، میزائل، بحری نظام اور مقامی اسلحہ سازی کو اس سطح تک لے گیا ہے جہاں وہ سلامتی صرف درآمد نہیں کرتا بلکہ دفاعی صلاحیت برآمد بھی کرتا ہے۔ سعودی عرب سرمایہ، توانائی، عرب و مسلم دنیا میں سیاسی وزن اور خلیج و بحیرہ? احمر کو عالمی تجارت سے ملانے والا جغرافیہ لاتا ہے۔ یہ تین برابر طاقتیں نہیں؛ تین مختلف قسم کی طاقتیں ہیں۔ اسی لیے ان کا مجموعہ دلچسپ ہے۔ پاکستان بازدار قوت، ترکی دفاعی صنعتی صلاحیت اور ادارہ جاتی تجربہ، جبکہ سعودی عرب معاشی و سیاسی وسعت فراہم کرتا ہے۔ اب اس تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش بھی شروع ہوچکی ہے۔ مصر سمیت دوسرے ممالک کی ممکنہ شمولیت کا امکان بھی زیر ِ بحث ہے۔ اگر یہ توسیع کبھی حقیقت بنتی ہے تو مکہ معاہدہ تین ممالک کے دفاعی انتظام سے بڑھ کر ایک قابل ِ توسیع علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی ابتدائی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ یہ ”اسلامی ناٹو“ بنے گا یا نہیں؛ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ممالک جو دہائیوں تک سلامتی کے صارف رہے، اب سلامتی فراہم کرنے والے بھی بن سکتے ہیں؟
یہ سوال خلیج کے امریکا کے ساتھ بدلتے سلامتی کے تعلق سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔ سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی بھی اس دفاعی تعاون کو بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ میں نئے سلامتی کے انتظامات کے امکان سے جوڑ چکی ہیں۔ ان کے تجزیے کا اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ خطے کی ریاستیں امریکی سلامتی کی ضمانت کی قابل ِ اعتماد نوعیت کے ساتھ ساتھ اپنے دفاعی اختیارات کو بھی ازسر ِنو دیکھ رہی ہیں۔ حالیہ امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی خلیجی دارالحکومتوں میں امریکی حکمت ِ عملی، جنگ کے علاقائی اثرات اور متبادل سلامتی کے انتظامات پر جاری بحث رپورٹ ہوئی ہے۔ مگر اسے امریکا سے خلیج کی علٰیحدگی کہنا تجزیاتی غلطی ہوگی۔ امریکی اڈے، اسلحہ، انٹیلی جنس اور سیاسی تعلقات اب بھی خلیجی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔ اصل تبدیلی علٰیحدگی نہیں، تنوع ہے۔ واشنگٹن ایسے اتحادی چاہتا ہے جو اپنے دفاع کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں؛ خلیجی ریاستیں ایسے راستے چاہتی ہیں جو ان کے دفاعی امکانات کو وسیع کریں۔ فی الحال دونوں مقاصد ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔ اصل تزویراتی موڑ تب آئے گا جب دفاعی بوجھ کے ساتھ دفاعی فیصلہ سازی بھی تقسیم ہونے لگے گی۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں امریکی burden-sharing علاقائی تزویراتی خودمختاری میں بدل سکتی ہے۔ طاقت کا توازن ہمیشہ کسی بڑی طاقت کے چلے جانے سے نہیں بدلتا؛ کبھی کبھی صرف نئے دروازے کھل جانے سے بدل جاتا ہے۔
لیکن نئے دروازے کھلنا اور قابل ِ اعتماد دفاعی نظام بن جانا ایک ہی بات نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ معاہدے کی سب سے بڑی طاقت اس کی سب سے بڑی آزمائش بھی بن سکتی ہے۔ کسی اتحاد کا مشکل ترین امتحان مشترکہ دشمن نہیں، مختلف دشمن ہوتے ہیں۔ ناٹو کا 1949 کا معاہدہ اجتماعی دفاع کا اصول لے کر آیا تھا، مگر اس کا مربوط عسکری ڈھانچہ بعد کے بحرانوں کے دوران مضبوط ہوا۔ مکہ معاہدہ بھی اسی بنیادی ادارہ جاتی سوال سے گزرے گا: ”ایک پر حملہ سب پر حملہ“ کا اصول عملی طور پر کیا معنی رکھتا ہے؟ براہِ راست جنگ؟ فضائی اور میزائل دفاع؟ انٹیلی جنس؟ بحری مدد؟ رسد؟ سائبر تعاون؟ یا سفارتی حمایت؟ ایران اس سوال کا سب سے واضح امتحان بن سکتا ہے۔ تہران نے فوری طور پر اس معاہدے کو دشمن اتحاد قرار دینے کے بجائے علاقائی سلامتی کے بدلتے بندوبست کے تناظر میں محتاط ردِعمل دیا ہے۔ دوسری طرف ایران اپنی علاقائی بازدار حکمتِ عملی، غیر ریاستی شراکت داروں اور آبنائے ہرمز جیسے جغرافیائی اثر و رسوخ کے ذریعے ایک مختلف سلامتی کا تصور پیش کرتا ہے۔ ہرمز کی اہمیت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت صرف میزائلوں کی تعداد نہیں، جغرافیے کو عالمی قیمت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ یوں خطے میں اب محض اتحاد مقابل نہیں کررہے؛ سلامتی کے مختلف ماڈل ایک دوسرے کے سامنے آرہے ہیں۔ ایران کا غیر متناسب بازدار نظام، اسرائیل کی عسکری برتری اور سفارتی معمول سازی کی حکمتِ عملی، امریکا کی روایتی دفاعی چھتری، اور اب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا ریاست سے ریاست اجتماعی دفاع یہ سب ایک ہی خطے میں بیک وقت موجود ہیں۔ مکہ معاہدے کی اصل آزمائش اسی لیے یہ نہیں کہ تینوں ممالک کس دشمن پر متفق ہیں؛ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود کیا وہ ایک مشترکہ سلامتی کی تعریف قائم کرسکتے ہیں۔
یہیں پاکستان کا کردار محض عسکری سے بڑھ کر سیاسی ہوجاتا ہے۔ اسلام آباد سعودی عرب کے حقِ دفاع اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات پر زور دینے کے ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے کی گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش بھی کرتا رہا ہے۔ یہی بظاہر متضاد پوزیشن دراصل پاکستان کی سب سے اہم تزویراتی قدر ہوسکتی ہے۔ سعودی عرب اس کا دفاعی شراکت دار ہے، ترکی قریبی ساتھی، چین تزویراتی شریک، ایران ہمسایہ اور امریکا ایسا عالمی کردار جس سے اسلام آباد رابطہ برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان اگر صرف طاقت فراہم کرتا ہے تو وہ اس تکون کا ایک مضبوط ضلع ہے؛ اگر طاقت کے ساتھ رابطے کی گنجائش بھی محفوظ رکھتا ہے تو وہ اس کا مرکز ِ ثقل بن سکتا ہے۔ اسی لیے مکہ معاہدے کو صرف اجتماعی دفاع نہیں بلکہ بازدار قوت اور سفارت کاری کے ملاپ کے طور پر ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت ہوگی۔ مشترکہ خطرے کی تعریف، بحرانی مشاورت، انٹیلی جنس کا تبادلہ، افواج کے درمیان عملی مطابقت اور کشیدگی پر قابو اس کے اصل پالیسی امتحانات ہوں گے۔ خصوصاً عسکری مطابقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: تینوں افواج مختلف دفاعی نظاموں سے نکلی ہیں۔ پاکستان میں چینی اور مغربی نظاموں کا امتزاج، سعودی عرب میں بڑی حد تک امریکی و مغربی پلیٹ فارم، جبکہ ترکی تیزی سے اپنی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھا ہے۔ کسی سیاسی اتحاد کو حقیقی عسکری نظام بنانے کے لیے صرف مشترکہ ارادہ نہیں، مشترکہ زبان بولنے والے نظام بھی درکار ہوتے ہیں۔ یہی فرق اعلامیے اور ادارے، اور علامت اور بازدار قوت کے درمیان ہے۔
اور شاید اسی مقام پر ابتدا کا خیال اپنا اصل سیاسی مفہوم حاصل کرتا ہے۔ مستقبل صرف وہ نہیں جو ریاستوں کے ساتھ پیش آتا ہے؛ مستقبل وہ بھی ہے جس کے لیے وہ آج اپنے انحصار، طاقت اور تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دیتی ہیں۔ خلیج نے امریکا کا ہاتھ نہیں چھوڑا اور موجودہ دفاعی حقیقت بھی ایسا نتیجہ اخذ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
لیکن حالیہ جنگ، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتِ حال، میزائل اور ڈرون خطرات اور بدلتے علاقائی اتحادوں نے سلامتی کے مزید راستے پیدا کرنے کی ضرورت کو نمایاں ضرور کیا ہے۔ سعودی عرب ایک طرف سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو اہمیت دے رہا ہے اور دوسری طرف نئے دفاعی اور بحری سلامتی کے انتظامات میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ شاید یہی نئے خلیجی حساب کتاب کی سب سے واضح تصویر ہے: ایک دروازہ سفارت کاری کے لیے کھلا رکھو، مگر سلامتی کے لیے صرف ایک دروازے پر کھڑے نہ رہو۔ اگر پاکستان کی بازدار قوت، ترکی کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کا معاشی و سیاسی وزن ایک ایسے نظام میں تبدیل ہوجائیں جہاں طاقت کے ساتھ تحمل، اجتماعی دفاع کے ساتھ سفارت کاری اور اتحاد کے ساتھ آزادیِ فیصلہ بھی موجود ہو تو مکہ معاہدے کی سب سے بڑی کامیابی وہ دن نہیں ہوگا جب تینوں ممالک کسی جنگ میں اکٹھے داخل ہوں۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی وہ جنگ ہوگی جو ان کی مشترکہ طاقت کی وجہ سے شروع ہی نہ ہوسکے۔ اور تب آنے والے مشرقِ وسطیٰ کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ امریکا خطے سے جارہا ہے یا نہیں؛ سوال اس سے زیادہ پیچیدہ ہوگا: کیا واشنگٹن ایسے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ رہنا سیکھ سکتا ہے جو اس کا اتحادی تو رہے، مگر اپنی سلامتی کے لیے اپنے کندھوں سے پار صرف واشنگٹن کی طرف دیکھنا چھوڑ دے؟

Leave a Reply