گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی رہنمائی، معاونت اور قومی تعلیمی معیارات کو عالمی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا کلیدی کردار ہے۔ بلوچستان میں، ٹیچنگ، ریسرچ اور ادارہ جاتی تعمیر و ترقی میں ایچ ای سی کی مسلسل معاونت نے ایجوکیشن ایکسیلینس اور ریسرچ پر مبنی پیشرفت کی بنیاد ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شروعات سے بلوچستان میں ضروری تعلیمی سہولیات اور مواقعوں کو مختلف قسم کی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن وڑن اور حقیقت کے درمیان اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے جس پر ہم چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جغرافیایی محل وقوع اور محدود وسائل کے چیلنجوں کے باوجود صوبہ کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں اس وقت سینکڑوں پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالرز اب معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور طلبائ وطالبات کو جدید تعلیم اور موجودہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق جدید مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔ فیکلٹی ڈویلپمنٹ، اسکالرشپس اور ریسرچ گرانٹس میں ایچ ای سی کا کردار اس تبدیلی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسطرح ایچ ای سی کا کردار کثیر جہتی ہے جو عصری تقاضوں کے مطابق کوالٹی ایشورنس کے معیارات مرتب اور نافذ کرتا ہے، جدید علم پر مبنی ریسرچ کو فروغ دیتا ہے اور صوبے کے دورافتادہ اضلاع میں بھی ہائیر ایجوکیشن تک مساوی رسائی کو یقینی بناتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ مختلف مد میں فنڈنگ، پالیسی گائیڈنس، صلاحیت سازی کے پروگراموں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ایچ ای سی ہماری پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو ترقی، جدت کاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے قابل بنا رہا ہے۔ اج ہمیں ایچ ای سی کا اثر صوبےبھر کی ہر یونیورسٹی کے کلاس روم اور ریسرچ لیبارٹری میں نظر آتا ہے۔

Leave a Reply