صوبائی وزیر خوراک بلوچستان نور محمد دمڑ نے کہا ہے کہ مانگی کے علاقے میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، حملے میں پولیس کے جوان شہید ہوئے جبکہ ہنہ اوڑک کے متاثرین کے ساتھ حکومت نے خوش اسلوبی سے مذاکرات کیے جو کامیاب رہے، زیارت دھرنا کمیٹی میں متاثرین کے بجائے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی شمولیت کے باعث مذاکرات اب تک بے معنی اور بے مقصد رہے ہیں۔یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے شہداءکے لواحقین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پیاروں کی تدفین کریں کیونکہ ورثاءاپنے عزیزوں کے چہرے دیکھنے کے لیے ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر شہداءکے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ دھرنا کمیٹی کے بعض مطالبات ایسے ہیں جن کے لیے متعلقہ آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہے اس لیے شہداءکے ورثاءپر مشتمل ایک الگ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ متاثرین کے حقیقی مطالبات سامنے آسکیں۔نور محمد دمڑ نے کہا کہ اگر شہداءکے متاثرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کے مطالبات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی جماعتیں شہداءکے وارثین کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیںجبکہ کچھ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے شہداءکے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔انہوں نے کہا کہ وہ زیارت دھرنے میں شرکت کے لیے گئے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے قبل ہی معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے رابطہ کرکے زیارت دھرنے کے مطالبات پر غور کرنے کی درخواست کی، جس پر وزیراعلیٰ نے جائز مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کرائی، تاہم افسوس کہ دھرنا سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔نور محمد دمڑ نے دعویٰ کیا کہ دھرنے میں مری، سوات اور کراچی سے لوگ آکر سیاست چمکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ورثاءاور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے اور مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت کی جانب سے ضامن کی حیثیت سے بھی کردار ادا کریں گے۔

Leave a Reply