Daily Shujaat Quetta
September 2, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ناشتہ نہیں کرتے تو اس کا بڑا نقصان جان لیںپی سی بی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیاپاکستانی مارشل آرٹسٹ عرفان محسود نے پنچزکا عالمی ریکارڈ قائم کردیاعاقب جاوید نے انگلینڈ کیخلاف شکست کی ذمہ داری کپتان بابر اعظم اور کوچ سرفراز احمد پر ڈال دیامریکی حملوں کے بعد ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر جوابی حملہ، بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰنیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئینیویارک میں چاقو بردار خاتون کا حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاکپانی خطے کی لائف لائن ہے، اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے، وزیراعظمافغانستان اور پاکستان باہمی انحصار کو بحران کے بجائے مشترکہ معاشی مفادات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں: افغان سفیر کا این ڈی یو میں خطابپاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی 27-2026 کی چیئرمین شپ سنبھال لیناشتہ نہیں کرتے تو اس کا بڑا نقصان جان لیںپی سی بی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیاپاکستانی مارشل آرٹسٹ عرفان محسود نے پنچزکا عالمی ریکارڈ قائم کردیاعاقب جاوید نے انگلینڈ کیخلاف شکست کی ذمہ داری کپتان بابر اعظم اور کوچ سرفراز احمد پر ڈال دیامریکی حملوں کے بعد ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر جوابی حملہ، بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰنیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئینیویارک میں چاقو بردار خاتون کا حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاکپانی خطے کی لائف لائن ہے، اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے، وزیراعظمافغانستان اور پاکستان باہمی انحصار کو بحران کے بجائے مشترکہ معاشی مفادات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں: افغان سفیر کا این ڈی یو میں خطابپاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی 27-2026 کی چیئرمین شپ سنبھال لی

سانحہ پمز: شفا کے ایوان میں ریاستی ذمے داری کا امتحان

کالم:ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
کبھی کبھی ایک حادثہ محض ایک حادثہ نہیں رہتا؛ وہ پورے نظامِ زندگی کے چہرے سے نقاب نوچ لیتا ہے۔ اسلام آباد کے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ بلاک میں پیش آنے والی آتش زدگی بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ تیسری منزل کے نرسری وارڈ سے اٹھنے والے دھوئیں نے صرف ایک کمرے کو نہیں گھیر ا، بلکہ اس سوال کو بھی دھوئیں کی طرح ہمارے اجتماعی شعور میں پھیلا دیا کہ جن اداروں کو زندگی کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا ہے، کیا وہ خود زندگی کے لیے محفوظ ہیں؟ وہ ننھی جانیں جنہوں نے ابھی دنیا کو دیکھا بھی نہ تھا، جن کی سانسیں زندگی کے پہلے باب کی عبارت لکھ رہی تھیں، اچانک شعلوں اور دھوئیں کے درمیان بے بسی کی تصویر بن گئیں۔ ایک بچے کی جان بچائی جا سکی، مگر چودہ سے پندرہ نومولود زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے۔ ان بچوں کے لیے موت صرف ایک طبی واقعہ نہیں؛ ان ماوں کے لیے یہ پوری کائنات کے اچانک ویران ہو جانے کا نام ہے۔ قرآن انسان کی جان کو ایسی حرمت عطا کرتا ہے کہ ایک بے گناہ جان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار پاتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کی حفاظت ہماری اجتماعی ترجیحات میں کہاں کھڑی تھی؟ابتدائی اطلاعات کے مطابق آتش زدگی کا آغاز ائر کنڈیشنر کے شارٹ سرکٹ یا کمپریسر میں خرابی سے ہوا اور آکسیجن کی موجودگی نے شعلوں کو تیزی سے پھیلنے کا ماحول فراہم کیا۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ چنگاری کہاں سے نکلی؛ اصل سوال یہ ہے کہ چنگاری کو قیامت بننے کا موقع کس نے دیا؟ برقی خرابی ایک تکنیکی سبب ہو سکتی ہے، مگر کسی اسپتال میں حفاظتی نظام کا ناقص ہونا محض تکنیکی مسئلہ نہیں رہتا۔ جہاں آکسیجن موجود ہو، وہاں آگ سے بچاو کا خودکار نظام، بروقت انتباہ، موثر فائر ڈٹیکشن، تربیت یافتہ عملہ اور ہنگامی انخلا کا واضح منصوبہ بنیادی ضرورت ہیں، اضافی سہولت نہیں۔ اگر یہ انتظامات موجود نہ ہوں یا محض کاغذوں میں موجود ہوں تو حادثہ قدرت کا فیصلہ کم اور انسانی غفلت کا نتیجہ زیادہ بن جاتا ہے۔یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: مادہ بے ارادہ ہوتا ہے، ذمے داری انسان کی ہوتی ہے۔ آکسیجن کو یہ شعور نہیں کہ وہ آگ کو بڑھا رہی ہے، تار کو یہ علم نہیں کہ اس کی خرابی کسی معصوم کی جان لے سکتی ہے، اور مشین کو اخلاقی ذمے داری کا ادراک نہیں۔ نیت، تدبیر، احتیاط اور نگرانی انسان کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی سانحے کو صرف ”شارٹ سرکٹ“ کہہ دینا حقیقت کی آخری منزل نہیں؛ یہ تو سوال کے دروازے پر پہنچ کر واپس لوٹ آنا ہے۔حادثے کے بعد تحقیقاتی کمیٹیوں کا قیام، ذمے داروں کے خلاف کارروائی کے اعلانات اور رسمی بیانات اپنی جگہ ضروری ہو سکتے ہیں، مگر قوم کو محض کمیٹی نہیں، نتیجہ چاہیے؛ محض رپورٹ نہیں، اصلاح چاہیے؛ محض معطلی نہیں، جوابدہی چاہیے۔ اگر ہر سانحے کے بعد ایک کمیٹی بنے، چند اجلاس ہوں، کچھ کاغذات مرتب ہوں اور پھر فائل خاموش الماری میں سو جائے تو تحقیق انصاف کا وسیلہ نہیں، فراموشی کا انتظام بن جاتی ہے۔ اس سانحے کا تقاضا ہے کہ ملک کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، خصوصاً زچہ و بچہ مراکز اور نرسری وارڈز کا جامع حفاظتی آڈٹ کیا جائے۔ برقی نظام، آکسیجن سپلائی، فائر الارم، اسپرنکلر، ایمرجنسی ایگزٹ، انخلا کی مشق، عملے کی تربیت اور ہنگامی نگرانی ہر شعبے کو محض کاغذ پر نہیں بلکہ عملی پیمانے پر جانچا جائے۔ جہاں سنگین غفلت ثابت ہو، وہاں قانون اپنا راستہ اختیار کرے اور ذمہ دار افراد کو واقعی جواب دہ بنایا جائے۔ریاست کی عظمت اس کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور شاندار اداروں سے نہیں ناپی جاتی؛ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کو کس قدر محفوظ رکھتی ہے۔ نومولود بچہ ریاست کے سامنے کوئی مطالبہ نہیں رکھتا؛ وہ صرف زندگی کا حق لے کر دنیا میں آتا ہے۔ اگر ایک ریاست اس حق کی حفاظت بھی نہ کر سکے تو پھر ترقی کے تمام دعوے محض الفاظ کا ہجوم ہیں۔ پمز کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شفا کا حقیقی مفہوم صرف بیماری کا علاج نہیں، زندگی کی حفاظت بھی ہے۔ اور جس نظام میں احتیاط، امانت، شفافیت اور جواب دہی زندہ نہ رہیں، وہاں شفا کے ایوان بھی کبھی کبھی موت کے خاموش گواہ بن جاتے ہیں۔ یہ وقت صرف ماتم کا نہیں، محاسبے کا ہے؛ صرف تعزیت کا نہیں، اصلاح کا ہے؛ صرف ذمے دار تلاش کرنے کا نہیں، ایسا نظام تعمیر کرنے کا ہے جس میں آئندہ کسی ماں کی گود انتظامی غفلت کے ہاتھوں اجڑنے نہ پائے۔
پمز کا نوحہ
یہ مسکنِ شفا ہے کہ ابلیس کا دیار؟
ظاہر میں زندگی ہے، کہ باطن میں کارزار؟
عمارت تو جلوہ گر ہے صفا و کرم کے ساتھ
اندر مگر ہے مرگِ مفاجات کا مزار
تھم جا ذرا اے دوست! بتا سوچ کر مجھے
کیا محض اک حادثہ تھا یہ شعلوں کا انتشار؟
نرسری میں جل بجھے جو وہ معصوم نخلِ نو
کیا شارٹ سرکٹ ہی تھا فقط باعثِ نار؟
ہرگز نہیں، وہ چنگاری تو اک عارضی تھی شے
حقیقت کچھ اور ہے، ہے غفلت کا یہ غبار
آکسیجن کا تھا نہ قصور، نہ مواد کا
انسان کی بے حسی نے کیا نیکی کا شکار
مادے میں کہاں ہوتی ہے نیت یا کوئی سوچ؟
انسان کی تدبیر کا ہی ہوتا ہے مدار
پھر کیا ہیں یہ جو بنتی ہیں سرکاری کمیٹیاں؟
کیا سچ کی ہے تلاش، کہ فریبِ روزگار؟
یہ کاغذی کارروائیاں، یہ پریس ریلیز سب
سائے کے تعاقب کا ہے اک کھیلِ ناپائیدار
نتیجہ یہی نکلا اس فکرِ سلیم سے
عہدِ تحفظ ہی ہے ریاست کا وقار
معصوم کو جو دیوِ قضا سے نہ بچا سکے
اس کے شفا کدے ہیں فقط ماتمِ مزار!

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *