کالم:سیّد شکیل انور
بھارت کی سابق وزیر ِاعظم آنجہانی اندرا گاندھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی غرور کی باتیں اور اکھنڈ بھارت بنانے کی باتیں کرنی شروع کردی تھیں۔ ا±س کا کہنا تھا کہ ا±س کے والد آنجہانی جواہر لال نہرو کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ بھارت ماتا کی تقسیم کرکے پاکستان کی تشکیل کی جارہی تھی اور وہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے۔ اندرا گاندھی اپنی متعدد تقریروں میں یہ کہتی چلی آرہی تھی کہ وہ تقسیم کی دیوار کو گرا کر ہی دَم لے گی۔ تقسیم کی دیوار گرانے میں تو وہ اگرچہ کامیاب نہ ہوسکی لیکن دیوار کا رنگ تبدیل کرنے میں وہ کامیاب ضرور ہوگئی۔ ہماری سبز دیوار کو ہمارے ہی خون سے س±رخ کردیا گیا اور ہمارے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنادیا گیا۔ بنگلا دیش بننے کے بعد اندرا گاندھی نے دعوے کے انداز میں کہا کہ ا±س نے دو قومی نظریے کو خلیج ِ بنگال کے پانی میں ڈبو دیا ہے۔ آج کی دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ اِندرا گاندھی خود تو گنگا کے پانی میں ڈوب چکی ہے جبکہ دوسری طرف دو قومی نظریہ خلیج ِ بنگال سے اپنا سَر ابھارتا ہ±وا نظر آرہا ہے۔ بنگلا دیش میں آزادی کے بعد بھی مذہبی شناخت پر بار بار سامنے آتی رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں بنگالی مسلمان بھارت مخالف جذبات اور ہندوو¿وں سے نفرت کا اظہار کرنے کی علاوہ پاکستان سے قریبی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ دونوں م±لکوں کے مابَین وزرا اور مندوبین کی آمد و رفت بڑی واضع علامتیں ہیں جو اِس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مذہبی اور تہذیبی شناخت کبھی ختم نہیں ہوتی ہے، اَلبتّہ یہ بات ضرور ہے کہ آدمی یا کوئی گروہ جب اپنا مذہب تبدیل کرلیتا ہے تب ا±س کی تہذیب اور ا±س کی شناخت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔
اگر زبان کی بنیاد پر قومیں تشکیل دی جاتیں تو مشرقی بنگال اور مغربی بنگال یعنی کولکتہ اور ڈھاکا ایک ہی م±لک کے دو شہر ہوتے، وہ الگ الگ م±لکوں کے شہر اور دارالحکومت نہ ہوتے اور بات صرف یہیں تک آکر نہ ر±کتی، ہندو بنگالی اپنے لباس کو دھوتی اور مسلمان بنگالی اپنے لباس کو ل±نگی نہ کہتے۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ کولکتے کے ہندو بنگالی جس جانور (گائے) کو مقدس سمجھ کر ا±س کی پوجا کرتے ہیں ڈھاکا کے بنگالی مسلمان ا±س جانور کو اپنی خوراک سمجھتے ہیں اور ا±سے پَیروں سمیت مزے لے لے کر کھا جاتے ہیں۔مشرقی پاکستان بنگلا دیش کیوں بنا اِس حوالے سے قارئین نے بے شمار مضامین پڑھ رکھے ہوں گے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا بنگلا دیش دوبارہ اپنا نام مشرقی پاکستان رکھ سکتا ہے؟ اگر یہ ممکن ہوجائے تو دنیا یہ دیکھ لے گی کہ دو قومی نظریہ فی الواقعی? خلیج ِ بنگال کے پانی سے پوری طرح برآمد ہوچکا ہے۔ بظاہر تو یہ میرا خواب وخیال ہے لیکن بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ شیاطین کے غلبے کے باعث سطحی اختلافات رکھنے والے بھائی ایک روز باہم گلے مل لیتے ہیں۔ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی باہم اشتراک کرکے ایک م±لک بن چکے ہیں اِسی طرح شمالی ویتنام اور جنوبی ویتنام اب ایک م±لک کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ شمالی یمن اور جنوبی یمن بھی باہم متحد ہوکر ایک م±لک بن چکے ہیں۔ پچھلے وقتوں میں پولینڈ اور اٹلی پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے اب یہ بھائی چارہ کے تحت اکھٹّے ہوکر ایک م±لک ہیں۔بنگلا دیش مشرقی پاکستان اور ہمارا موجودہ پاکستان اپنا پرانا نام یعنی مغربی پاکستان اگر رکھ لیں تو اِس کے کیا فوائد ہوں گے۔ اِس موضوع پر کسی اور دن لکھنے کی کوشش کروں گا۔ فی الحال جو فائدہ مجھے نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ بھارتی سیاسی جغادریوں اور نامِ نہاد دانشوروں کی ماں اندرا گاندھی کی ر±وح تڑپ تڑپ کر یہ کہہ ا±ٹھے گی کہ ہائے! ”دو قومی نظریہ“ پھر ا±بھر آیا ہے۔
اِندراگاندھی د±وب گئی اور دو قومی نظریہ ا±بھرآیا
adminshuja
اگلی خبر →
سید علی گیلانی کچھ یادیں کچھ باتیں

Leave a Reply