Daily Shujaat Quetta
September 3, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
روس ایران کو جدید سپرسونک کروز میزائل تیارکرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے، برطانوی اخبارکا دعویٰبلوچستان کے نوجوان ہتھیاروں کے بجائے قلم کو طاقت بنائیں، ضیاءلانگومیرٹ اور شفافیت صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے،شکیل قادر خانسپریم کورٹ کے ججز کی اسپیکر بلوچستان سے ملاقات، صاحبزادے کے انتقال پر تعزیتاہم نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائےگیبدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے ، نواب ایاز خان جوگیزئیناشتہ نہیں کرتے تو اس کا بڑا نقصان جان لیںپی سی بی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیاپاکستانی مارشل آرٹسٹ عرفان محسود نے پنچزکا عالمی ریکارڈ قائم کردیاعاقب جاوید نے انگلینڈ کیخلاف شکست کی ذمہ داری کپتان بابر اعظم اور کوچ سرفراز احمد پر ڈال دیروس ایران کو جدید سپرسونک کروز میزائل تیارکرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے، برطانوی اخبارکا دعویٰبلوچستان کے نوجوان ہتھیاروں کے بجائے قلم کو طاقت بنائیں، ضیاءلانگومیرٹ اور شفافیت صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے،شکیل قادر خانسپریم کورٹ کے ججز کی اسپیکر بلوچستان سے ملاقات، صاحبزادے کے انتقال پر تعزیتاہم نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی سست روی برداشت نہیں کی جائےگیبدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے ، نواب ایاز خان جوگیزئیناشتہ نہیں کرتے تو اس کا بڑا نقصان جان لیںپی سی بی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیاپاکستانی مارشل آرٹسٹ عرفان محسود نے پنچزکا عالمی ریکارڈ قائم کردیاعاقب جاوید نے انگلینڈ کیخلاف شکست کی ذمہ داری کپتان بابر اعظم اور کوچ سرفراز احمد پر ڈال دی

آزادکشمیر میں انٹرنیٹ کا بلیک آوٹ؟

کالم:عارف بہار
وفاق میں آئے روز ایسے سیمینارز میں حکومتی شخصیات کی ایسی تقریریں سننے کو مل رہی ہیں جن کے مطابق پاکستان کے دور دراز علاقے بھی انٹرنیٹ کی جدید سہولت سے مزین اور آراستہ ہوجائیں گے۔ نئے پروجیکٹس متعارف کرائے جائیں گے جس سے مواقع اور امکانات کے نئے جہان کھلتے چلے جائیں گے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں وفاقی وزرا ءیہ کہہ رہے تھے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز اور قومی خلائی پالیسی کے تحت ٹیلی کام شعبے میں انقلاب برپا ہونے جا رہا ہے۔ اب سیٹلائٹ کے ذریعے براڈ بینڈ کنیکٹویٹی پاکستان کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ دستیاب ہوگا۔ یہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کے یہ دعوے اس وقت ہو رہے تھے جب وفاقی دارالحکومت سے چند کلومیٹر کی دوری پر آزادکشمیر کی حدود شروع ہوتے ہی چالیس لاکھ لوگ تین ماہ سے انٹرنیٹ سے کلی طور پر محروم ہیں۔ قومی خلائی پالیسی کے سورج کی کرنیں آزادکشمیر کو منور کرنا بھول گئی ہیں اور چالیس لاکھ لوگ کسی قومی خلائی پالیسی سے مستفید ہونے سے محرومی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ملک میں مجموعی طور پر ایسی فضائ ہے کہ اب اپنے جائز اور مسلمہ حق کی بات کرنا بھی جرم بن گیا ہے اور لوگ اپنے بنیادی حق کا مطالبہ کرنے سے بھی کترانے لگے ہیں۔ یہی وجہ کہ تین ماہ سے انٹرنیٹ کی مکمل بندش کے باعث آزادکشمیر کا ہر شہری عملی ذہنی اور نفسیاتی عتاب سہنے کے باوجود اس حق کے لیے آواز بلند کرنے سے قاصر ہے۔ صحافتی تنظیموں سے وکلا انجمنوں تک اور سول سوسائٹی سے طلبہ تک، کاروباری افراد سے دیگر پروفیشلنز تک ہر کوئی اسے مقدر کا لکھا سمجھ کر خاموش رہنے میں ہی عافیت محسوس کررہا ہے۔
آج آزادکشمیر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ انٹرنیٹ کب بحال ہوگا؟ مگر جواب میں اسی سوال پر لاعلمی کا اظہار بھی سامنے آتا ہے۔ ہر دن انٹرنیٹ کی بحالی کی امید پر گزرتا ہے اور ہر دن یہ امید ٹوٹ جاتی ہے اور یوں کم وبیش تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں انٹرنیٹ سے محرومی کے باعث آزادکشمیر کو مجموعی اور انفرادی طور پر کئی نقصانات سہنا پڑے ہیں، معاشی نقصان کا حساب کتاب اور بہی کھاتا تو تیار کیا جاسکتا ہے مگر اس عمل کے نتیجے میں پاکستان اور آزادکشمیر کے درمیان اعتماد کا بھی ایک نادیدہ بحران پیدا ہوا ہے جس کا حساب کتاب کسی بہی کھاتے میں درج نہیں۔ آزادکشمیر کے عوام کے تحت الشعور میں یہ احساس جاگزیں ہوگیا ہے کہ اب وفاق کے حکمران جب اور جہاں چاہیں اجتماعی سزا کے طور پر انٹرنیٹ بند کردیا کریں گے۔ اس احساس کا نتیجہ یہ ہے کہ آزادکشمیر کا نوجوان اور پروفیشنل آزادکشمیر کی حدود سے باہر اپنا مستقبل تلاش کرنے کی جانب مائل ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی غیر معینہ مدت کے لیے بندش نے پاکستان کے عوام کو آزادکشمیر کے حالات کی تصویر کا دوسرا ر±خ دکھا دیا ہے۔ ملک کے کنٹرولڈ میڈیا نے بیانیہ سازی کے شوق میں پاکستانی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ آزاد علاقے میں کوئی پاکستان مخالف تحریک چل رہی ہے۔ ایکشن کمیٹی کی صورت میں آزادکشمیر میں کوئی ٹی ٹی پی اور بی ایل اے یا ماضی کی مکتی باہنی پیدا ہوگئی ہے۔ انٹرنیٹ کا دور نہ ہوتا تو پاکستانی نوجوان اور انٹیلی جنشیا کو اسی بیانیہ کو تسلیم کرنا تھا مگر جدید دور کے جدید تقاضوں نے پاکستان کے نوجوان کو باشعور بنا دیا ہے اور وہ واقعات کی تحقیق کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔آزادکشمیر میں انٹرنیٹ کی غیر معینہ مدت کے لیے بندش نے پاکستانی عوام اور معاشرے کو بتادیا کہ خطے کے حالات کسی قدیمی تجربہ گاہ میں ماضی کی طرح کیمیائی تعاملات کا کوئی ری ایکشن ہے۔ دومختلف گیسز کے ملنے سے ایسے واقعات کا رونما ہونا پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیاسی تاریخ ہے۔ ایم کیو ایم سے ٹی ٹی پی تک بہت سی قوتیں اور ان سے جڑے حالات اور تجربات کیمیائی تعاملات کا ہی ری ایکشن قرار دیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں انٹرنیٹ کی طویل بندش نے پاکستانی عوام کو تصویر کا دوسرا ر±خ دکھانے میں اہم کر دار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آزادکشمیر کے حالات کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ انٹر نیٹ کی بندش سے آزادکشمیر کے عوام ذہنی کوفت اور اذیت سہنے پر مجبور ہیں باقی حالات کے سدھار میں اس عمل کا کوئی دخل نہیں۔ اس سے آزادکشمیر کے عوام میں احساس محرومی اور احساس تنہائی بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہورہا۔ ملک میں اب اگلے ماہ سے احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن آئی پی پیز کے خلاف احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن لانگ مارچ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ کسان بھی اپنے مطالبا ت کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا محور پنجاب ہوگا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے بلیک آوٹ کے لیے کتنے دن انٹرنیٹ سروسز معطل رکھی جاتی ہیں؟

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *