Daily Shujaat Quetta
August 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئےپاکستان کی سعودی عرب کیساتھ اقتصادی تعلقات کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی خواہشنبی کریم حضرت محمد مصطفیکی ولادت پوری انسانیت کےلئے عظیم نعمت ہےروز اول ہی کہاتھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہونگی،میرسرفرازبگٹیسرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں، شاہد رندعید میلاد النبی ہمیں انسانیت کی خدمت اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہے‘سردار عبیداللہ گورگیجمحکمہ بلدیات عوام کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہےصوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،سلیم احمد کھوسہصوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی کی ملاقاتچین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئےپاکستان کی سعودی عرب کیساتھ اقتصادی تعلقات کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی خواہشنبی کریم حضرت محمد مصطفیکی ولادت پوری انسانیت کےلئے عظیم نعمت ہےروز اول ہی کہاتھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہونگی،میرسرفرازبگٹیسرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں، شاہد رندعید میلاد النبی ہمیں انسانیت کی خدمت اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہے‘سردار عبیداللہ گورگیجمحکمہ بلدیات عوام کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہےصوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،سلیم احمد کھوسہصوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی کی ملاقات

امریکی افواج نے مبینہ طورپر ایران کے شہری علاقوں میں بارودی سرنگیں گرائیں: امریکی اخبار

امریکی اخبار کے مطابق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں امریکی بارودی سرنگیں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تصاویر میں امریکی ساختہ BLU-91/B اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں دیکھی جا سکتی ہیں، جو ’گیٹر مائن اسکیٹرنگ سسٹم‘ کے تحت طیاروں سے گرائی جاتی ہیں۔ 

واشنگٹن پوسٹ کی درخواست پر ان تصاویر کا جائزہ لینے والے چار ماہرینِ کے مطابق اس نظام کا حامل واحد ملک امریکا ہے۔

یہ بارودی سرنگیں شیراز شہر سے تقریباً تین میل دور اس علاقے میں دیکھی گئیں جہاں ایرانی بیلسٹک میزائل تنصیبات موجود ہیں۔ 

امریکی فوج کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے نظام کے ذریعے ایک وقت میں درجنوں بارودی سرنگیں بکھیرنے والے ڈسپنسرز میں اینٹی ٹینک کے ساتھ ساتھ اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں بھی شامل ہو سکتی ہیں تاہم دستیاب تصاویر سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں بھی استعمال کی گئی ہیں یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے اس نوعیت کی اینٹی ٹینک بارودی سرنگوں کا آخری استعمال 1991 کی خلیج جنگ میں ہوا تھا جبکہ اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں کا آخری معلوم استعمال 2002 میں افغانستان میں ہوا جب خصوصی دستوں نے ہیلی کاپٹر کے انتظار کے دوران انہیں استعمال کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں پر عالمی پابندی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں کیونکہ یہ جنگ کے خاتمے کے برسوں بعد بھی شہریوں کو ہلاک، معذور یا نابینا کر سکتی ہیں

اس حوالے سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دستخط شدہ میمو میں کہا گیا تھا کہ ان سرنگوں کے استعمال سے متعلق فیصلے کیس ٹو کیس بنیاد پر کیے جائیں گے اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *