تربت اس وقت شدید ترین ہیٹ ویو اور جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ شہر میں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جس نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اس قیامت خیز گرمی میں حکومت کی جانب سے عوام کی سہولت کے لیے شروع کی گئی “پیپلز بس سروس” کے اسٹاپس غریب عوام کے لیے زحمت اور اذیت کا باعث بن گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق تربت شہر میں قائم پیپلز بس سروس کے کسی بھی اسٹاپ پر مسافروں کے لیے نہ تو سائے کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کی کوئی سہولت موجود ہے۔ تپتی دھوپ اور لو کے تھپیڑوں میں گھنٹوں بس کا انتظار کرنا شہریوں، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے عذاب بن چکا ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سے انتہائی تشویشناک اطلاع سامنے آئی ہے کہ گزشتہ روز بس کے انتظار میں کھڑی دو خواتین شدید دھوپ اور گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی بے ہوش ہو گئیں، جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد شہریوں اور عوامی حلقوں میں ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شیلڈز کی تعمیر کا کام محض ایک ہفتے کا ہے، لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک کسی ایک اسٹاپ پر بھی سایہ دار شیلڈ مکمل نہیں کی جا سکی۔شدید ترین ہیٹ ویو کے باوجود نہ تو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بس اسٹاپس پر پانی کا کوئی بندوبست کیا گیا ہے اور نہ ہی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تربت کی اس ہنگامی صورتحال پر اب تک کوئی ایکشن لیا ہے۔ پی ڈی ایم اے، جس کا بنیادی کام ہی ناگہانی آفات اور شدید موسم میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، کیچ میں مکمل طور پر غائب دکھائی دیتی ہے۔ تپتی سڑکوں پر کھڑے مسافروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

Leave a Reply