جمعیت علماءاسلام کے ضلعی ترجمان حافظ علی محمد بڑیچ نے اپنی جاری کردہ بیان میں کہاکہ دالبندین میں 48 سے 50 ڈگری کی ناقابلِ برداشت گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا مسلسل عذاب عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ کبھی “فالٹ” کا جھوٹا بہانہ، کبھی “مینٹیننس” کا ڈرامہ رچا کر کیسکو انتظامیہ نے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ جب سے نیا ایس ڈی او آیا ہے تب سے دالبندین کی عوام سب سے زیادہ ذلیل ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف آسمان کو چھوتے ہوئے بجلی کے بل بھیجے جا رہے ہیں، دوسری طرف 24 گھنٹے میں 2 سے 3 گھنٹے بھی متواتر بجلی نصیب نہیں ہو رہی۔ صبح، دوپہر، عصر ان تینوں ٹائم بجلی نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ دالبندین ایک بارڈر کا علاقہ ہے جہاں پہلے ہی کاروبار تباہ ہے، امن و امان کے مسائل ہیں اور روزگار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اب بجلی کی بندش نے تاجر برادری کی کمر توڑ دی ہے، دینی مدارس کے طلباءگرمی میں بے حال ہیں، سیکنڈ ٹائم کے طلباءکی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے اور گھروں میں بچے، بزرگ اور مریض بلبلا اٹھے ہیں۔ *منتخب نمائندے مکمل طور پر خاموش اور بے حس بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکام بالا اور واپڈا کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس غفلت اور نااہلی کا نوٹس لیا جائے۔

Leave a Reply