کالم:قاسم جمال
سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑا کریک ڈاون شروع کردیا ہے اور اس کریک ڈاون میں اب تک 1 لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم برآمدکی جاچکی ہے جس کی مالیت مارکیٹ میں تقریباً 17 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ چھاپا مار کارروائیوں میں مختلف خفیہ مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔ امکان ہے کہ 75 سے 80 ارب روپے مالیت کی مزید گندم برآمد ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث بااثر عناصر، سہولت کاروں اور مالی معاونین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائے۔ اور مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے انہیں نشان عبرت بنایا جائے اور کسی صورت بھی صورت میں ذخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کیا جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے اور انہیں ذخیرہ اندزوں کے ظلم وستم سے بچایا جاسکے۔ بلاشبہ سندھ حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے کریک ڈاون مثبت، بروقت اور عوامی مفاد میں اہم اقدام ہے۔ذخیرہ اندوز ملک قوم کے لیے ایک ناسور ہیں۔ حکومت اگر اسی جذبے، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو آئندہ چند ہفتوں میں مزید ذخیرہ شدہ گندم برآمد ہونے کا قوی امکان ہے، جس سے نہ صرف مصنوعی قلت کا خاتمہ ہوگا بلکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی نمایاں استحکام آئے گا۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی بحران پیدا کرنا صرف ایک معاشی جرم نہیں بلکہ کروڑوں عوام کے معاشی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ جب فغانستان کی سرحدیں کھلی ہوئی تھیں تو اربوں روپے لاگت کی گندم فغانستان اسملنگ ہوجاتی تھی جس کی وجہ سے ملک میں گندم کا بحران پیدا ہوجاتا تھا۔ اب جب کہ افغانستان کی سرحدیں مکمل طور پر بند ہیں ایسے میں ذخیرہ اندوزں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر ملک میں ایک مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے قبل بھی چینی، آٹا اور ایل پی جی گیس کا بحران پیدا کر کے یہ مافیا اربوں روپے کما چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف گندم برآمد کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ یہ بھی معلوم کرے کہ اتنی بڑی مقدار میں گندم ذخیرہ کرنے والے افراد کون ہیں، ان کے مالی ذرائع کیا ہیں، ان کے کاروباری نیٹ ورک میں کون کون شامل ہے، اور کیا ان کے اثاثے اور سرمایہ قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں۔ اگر کسی بھی مرحلے پر غیر قانونی سرمایہ کاری، ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ یا دیگر بے ضابطگیاں سامنے آئیں تو متعلقہ اداروں کو فوری اور سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ اگر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف موثر، شفاف اور مسلسل کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف گندم کی دستیابی بہتر ہوگی بلکہ مہنگائی پر قابو پانے اورمارکیٹ میں استحکام لانے کا بھی باعث بنے گا اور عوام کا حکومتی اقدامات پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
وفاقی اور صوبائی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ باہمی رابطے کے ذریعے ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تاکہ عوام کو سستی گندم، آٹا اور دیگر ضروری اشیائے خورو نوش کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور مستقبل میں ایسے بحرانوں کی روک تھام ممکن ہو اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث بااثر عناصر، سہولت کاروں اور مالی معاونین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کر شفاف احتساب کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مستحکم ہواور ملک سے مہنگائی غربت کا حقیقی معنوں میں خاتمہ ہوسکے اور ملک پاکستان ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوسکے۔
گندم کی ذخیرہ اندوزی
adminshuja
← پچھلی خبر
شگون

Leave a Reply