اگر بڑھاپے میں سنگین ترین دماغ عارضے سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو درمیانی عمر میں 3 چیزوں کا خیال رکھنا یقینی بنالیں۔
درحقیقت 45 سے 65 سال کی عمر میں 3 چیزوں کا خیال رکھنے سے ایک دہائی سے زائد اضافی عرصے تک ڈیمینشیا جیسے دماغی تنزلی کے مرض سے خود کو رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
نیویارک یونیورسٹی کی تحقیق میں 12 ہزار سے زائد ایسے افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 55 سال کی عمر میں ڈیمینشیا سے محفوظ تھے۔
تحقیق کے دوران ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والے 3 اہم عناصر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور تمباکو نوشی کا تجزیہ کیا گیا۔
بعد ازاں ان افراد کی صحت کا جائزہ اوسطاً 26 سال تک لیا گیا۔
اس عرصے میں 3 ہزار سے زائد افراد ڈیمینشیا سے متاثر ہوئے جبکہ 5200 افراد کا انتقال ہوا مگر وہ اس بیماری کے شکار نہیں ہوئے تھے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خطرہ بڑھانے والے عناصر سے محفوظ افراد میں ڈیمینشیا کی تشخیص ان افراد کے مقابلے میں 13 سال تاخیر سے ہوئی، جن میں یہ تینوں دریافت ہوئے تھے۔
یعنی تمباکو نوشی سے دور رہنے والے ایسے افراد جو ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ تھے، وہ اگلے 30 سال تک ڈیمینشیا کے بغیر زندہ رہے۔
تحقیق کے مطابق جن افراد میں کسی ایک عنصر کو دریافت کیا گیا، وہ 26.3 سال تک ڈیمینشیا سے محفوظ رہ کر زندگی گزارتے رہے۔
خطرے کے 2 عناصر کا سامنا کرنے والوں میں 21 سال تک ڈیمینشیا کی تشخیص نہیں ہوئی جبکہ تینوں عناصر کے شکار افراد میں 17 سال کے اندر اس مرض کی تشخیص ہوگئی۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ لوگوں کو درمیانی عمر میں ان تینوں عناصر سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ زیادہ عرصے تک دماغی صحت کو محفوظ رکھ سکیں۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ عرصے تک ڈیمینشیا سے پاک زندگی گزارتی ہیں، چاہے وہ جتنے بھی عناصر کا سامنا کر رہی ہوں۔

Leave a Reply