گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہوتھ اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا عالمی سربراہی اجلاس موجودہ وقت کے دو متعین کردار نوجوانوں اور مصنوعی ذہانت پر مرکوز ہے، نوجوان پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس چوتھے صنعتی انقلاب کی عکاسی کرتی ہے،اس شاندار گلوبل سمیٹ میں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ بلوچستان نے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ پہلی مرتبہ ہم نے یونیورسٹی آف بلوچستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بی ایس پروگرام شروع کیا ہے اور ہم نے اسی یونیورسٹی کو مکمل طور پر پیپرلیس انسٹیٹیوشن میں بھی تبدیل کر دیا ہے جو ڈیجیٹل تبدیلی اور جدید تعلیم کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان سنگ میلوں کو حاصل کرنے کے بعد، ہمارا اگلا قدم بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرام اور پیپرلیس یونیورسٹی ماڈل کو دیگر تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک وسعت دینا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں “یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ” کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ اس گلوبل سمٹ میں 186 ممالک کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

Leave a Reply