رک بحریہ نے صومالی فورسز کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے صومالی قزاقوں کے قبضے سے بحری جہاز بازیاب کروالیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق صومالی حکومت نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ترک بحریہ نے صومالی مسلح افواج کے ساتھ مل کر کئی دنوں تک جاری رہنے والے ایک آپریشن کے بعد صومالی پانیوں میں اغوا ہونے والے ایک بحری جہاز کو بازیاب کرا لیا ہے، اس جھڑپ کے دوران 14 قزاق ہلاک ہوئے۔
صومالی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’10 روزہ آپریشن کے دوران قزاقوں کے زیرِ استعمال 4 کشتیاں تباہ کی گئیں اور 14 قزاقوں کو ہلاک کیا گیا اور مسلسل فوجی دباؤ نے بالآخر باقی ماندہ قزاقوں کو جہاز چھوڑنے پر مجبور کر دیا‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فورسز نے کارروائی کے بعد MV LATUF نامی جہاز کا کنٹرول سنبھال کر اسے محفوظ بنا لیا ہے، جس نے اب بحفاظت اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
صومالیہ کی نیم خودمختار ریاست پنٹ لینڈکے ذرائع کے مطابق جہاز پر عملے کے کم از کم 8 ارکان سوار تھے جن میں ایک ترک شہری بھی شامل تھا۔
میرین ٹریفک ویب سائٹ کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کیمرون کے جھنڈے تلے آپریٹ کرنے والا یہ جہاز جولائی کے اواخر میں ترکیے سے تنزانیہ کی بندرگاہ دارالسلام کے لیے روانہ ہوا تھا۔
خبررساں ایجنسی نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جہاز پر ترک ہتھیار لدے ہوئے تھے تاہم رابطہ کرنے پر صومالیہ کے حکام یا پنٹ لینڈ انتظامیہ نے ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق ترکیے اور صومالیہ کا یہ مشترکہ آپریشن دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کے تحت کیا گیا۔

Leave a Reply