جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام ضلعی امیر عبدالنعیم رندکی صدارے میں پریس کلب کے سامنے”بلوچستان کوامن دو!’مظاہرہ کیاگیا۔مظاہرین نے حکومت واداروں کے خلاف شدیدنعرے بازی کی مظاہرین نے امن کے قیام ،امن کی ضرورت،دہشت گردی بدامنی کے خلاف کتبے اٹھارکھے تھے۔اس موقع پرخصوصی خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ پانی،بجلی، تعلیم، علاج یا روزگار نہیں بلکہ عوام کے لیے جینے اور تحفظ کا حق مانگنے آئے ہیں۔ہم بلوچستان کوامن دومہم چلارہے ہیں ہم نے امن امان سمیت جائزحقوق کیلئے ایک سال پہلے کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ کیاحکمرانوں نے مطالبات ماننے کاوعدہ کیالیکن ایک سال گزرنے کے باوجودہمارے قومی اجتماعی مطالبات نہیں ماننے گیے اگرلانگ مارچ کے مطالبات مان لیے جاتے توآج بلوچستان بارودپرنہ کھڑاہوتا۔بلوچستان سے ایف سی کوبیدخل کرکے اختیارات ووسائل پولیس ولیویزکودیے جائے امن کی بحالی کیلئے ایف سی کوکاروبار،بھتہ خوری سے ہٹاناہوگا۔آج بلوچستان میں ہرجگہ عوام،لیویزوپولیس والے غیرمحفوظ ہیں صرف ہماری حفاظت کیلئے متعین کاروباروبھتہ خوری میں مصروف تین چاردیواری کے اندرآرام کرنے والی ایف سی محفوظ ہیں۔پولیس ولیویزوالے نہتے عوام غیر محفوظ ہیں جبکہ حکمران صرف اپنی سکیورٹی تک محدود ہیں۔ ریاستی اداروں کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرنا چاہیے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ریاستی اداروں کو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرنا چاہیے،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

Leave a Reply