Daily Shujaat Quetta
August 27, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
آئی سی سی نے یو اے ای کے کرکٹر آصف خان پر 15 ماہ کی پابندی عائد کردیسینئرکو باہر بٹھانے میں کوئی برائی نہیں، جو ٹیم کیلئے اچھا ہے وہی کھیلےگا: بابراعظملارڈز ٹیسٹ کا پہلادن، انگلینڈ نے پاکستان کیخلاف 9 وکٹ پر 248 رنز بنالیےنیپال اور چین کی سرحد پر تباہ کن سیلاب کی وجہ کیا بنی؟امریکی صدر ٹرمپ کا ایران سے روابط پر چینی بینکوں پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہبرطانیہ کے 3 بڑے ائیرپورٹس پر سائبر حملہ، 87 لاکھ صارفین کا حساس ڈیٹا چوریحکام نے ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق پاکستان سے منسوب کیے گئے بیانات کی تردید کردیسانحہ پمز اسپتال: حکومت کا جاں بحق بچوں کے لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلانگل پلازہ میں 72 لوگ جان سےگئےکیا وزیراعلیٰ سندھ اور میئرکراچی نےاستعفیٰ دیا؟ مصطفیٰ کمالچین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاآئی سی سی نے یو اے ای کے کرکٹر آصف خان پر 15 ماہ کی پابندی عائد کردیسینئرکو باہر بٹھانے میں کوئی برائی نہیں، جو ٹیم کیلئے اچھا ہے وہی کھیلےگا: بابراعظملارڈز ٹیسٹ کا پہلادن، انگلینڈ نے پاکستان کیخلاف 9 وکٹ پر 248 رنز بنالیےنیپال اور چین کی سرحد پر تباہ کن سیلاب کی وجہ کیا بنی؟امریکی صدر ٹرمپ کا ایران سے روابط پر چینی بینکوں پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہبرطانیہ کے 3 بڑے ائیرپورٹس پر سائبر حملہ، 87 لاکھ صارفین کا حساس ڈیٹا چوریحکام نے ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق پاکستان سے منسوب کیے گئے بیانات کی تردید کردیسانحہ پمز اسپتال: حکومت کا جاں بحق بچوں کے لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلانگل پلازہ میں 72 لوگ جان سےگئےکیا وزیراعلیٰ سندھ اور میئرکراچی نےاستعفیٰ دیا؟ مصطفیٰ کمالچین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیا

شگون

کالم:مفتی منیب الرحمن
ل±غت میں اِس کے معنیٰ ہیں: ”اچھی یا بری فال نکالنا“۔ ہندو معاشرت کے اثرات کے تحت ہمارے ہاں نیک وبَد ش±گون کی بہت سی روایات چلی آرہی ہیں۔ صَفرالم±ظفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے، ظہورِ اسلام سے پہلے اہلِ عرب میں بھی اِس مہینے کے بارے میں بہت سی روایات موجود تھیں، بعض لوگ ماہِ صفر کی طرف بیماری یامالی نقصان یا مصیبتوں کے نزول کی بدش±گونی منسوب کرتے تھے۔ رسول اللہ نے اِن تمام باتوں کی نفی فرمائی، اِس حوالے سے ک±تبِ احادیث میں متعدد روایات ہیں، آپ ے فرمایا: ”بدش±گونی کی کوئی حقیقت نہیں، کوئی مرض اپنی ذات سے م±تعدی نہیں ہوتا، ا±لّو کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں، ماہِ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں، ستاروں کے طلوع ہونے کا انسانوں کی تقدیر میں کوئی دخل نہیں اور بھوت پریت کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے“۔
قرآن مجید میں بد شگونی کے معنیٰ میں ”نَحس“ اور ”طِیَرَہ“ کے کلمات آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (۱): ”بے شک ہم نے ا±ن پر ت±ند وتیز مسلسل چلنے والی آندھی منحوس دن میں بھیجی، جو ا±ن کو اٹھاکر اِس طرح مارتی تھی جیسے وہ جڑسے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں“، (القمر:19-20) (۲): ”سوہم نے (ا±ن کے) منحوس دنوں میں ا±ن پر خو ف ناک آواز والی آندھی بھیجی تاکہ ہم ا±نہیں دنیا کی زندگی میں ذلّت کے عذاب کا مزا چکھائیں اور آخرت کا عذاب سب سے زیادہ ر±سواک±ن ہے“، (حم السجدہ: 16) (۳): ”اور رہے عاد، تو ا±ن کو گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیاگیا، (اللہ نے) اِس آندھی کو ا±ن پر مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک م±سَلّط رکھا، پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گر گئے“، (الحاقّہ: 6-7) (۴) ”پس جب ا±ن پر خوشحالی آتی تو وہ کہتے یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر ا±ن پر کوئی بدحالی آتی، تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ا±ن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے، سنو! اِن کافروں کی نحوست اللہ کے نزدیک ثابت ہے، لیکن اِن میں سے اکثر نہیں جانتے“،(اعراف: 131) (۵): ”کافروں نے (رسولوں سے) کہا: ہم تم سے براشگون لیتے ہیں اور اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تم کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا، ا±نہوں نے کہا: تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہے، کیا تم اس بات سے بدکتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے، بلکہ تم حد سے گزرنے والے ہو“، (یاسین: 18-19) (۶) ”اور بے شک ہم نے ثمود کی طرف ا±ن کے ہم قبیلہ صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ دوفریق بن کر جھگڑنے لگے، صالح نے کہا: اے میری قوم! تم بھلائی کی طلب سے پہلے برائی کی طلب میں کیوں جلدی کر رہے ہو، تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے، انہوں نے کہا: ہم آپ اور آپ کے ساتھیوں کو نحس سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا: تمہاری نحوست اللہ کے پاس ہے، بلکہ تم لوگ فتنے میں مبتلا ہو“۔ (النمل:45-47)
نحوست یا بدشگونی کے لیے ابتدائی تین آیات میں”نَحس“ کا کلمہ آیا ہے، اِن آیات میں قومِ عاد پر عذاب کے دنوں کو منحوس کہاگیا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ قومِ عاد پر عذاب بدھ کے دِن آیاتھا اور وہ اِس دن کو منحوس کہتے تھے، اس کی تفسیر میں علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں: ”میں کہتا ہوں کہ تمام ایام برابر ہیں اور بدھ کا دن نحوست کے لیے خاص نہیں ہے، یعنی ا±ن پر عذاب ا±ن کی سرکشی اور بغاوت کی وجہ سے آیا نہ کہ بدھ کے دن کی وجہ سے اور ہر گزرنے والی ساعت کسی شخص کے لیے اچھی اور مبارک ہوتی ہے اور وہی ساعت دوسرے شخص کے لیے بری اور منحوس ہوتی ہے اور ہر دن کسی شخص کے لیے خیر اور دوسرے شخص کے لیے شَر ہوتا ہے، یعنی ایک ہی دِن کہیں جنازہ اٹھتا ہے اور کہیں شادیانے بج رہے ہوتے ہیں، پس نحوست یا ناخوشگوار ہونے کا تعلق زمانے سے نہیں ہوتا، بلکہ افراد کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص پر کوئی عذاب یا کوئی مصیبت نازل ہونے کی وجہ سے بدھ کے دن کو منحوس مان لیا جائے تو ہر دن بلکہ ہر ساعت میں کسی نہ کسی شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت اور بلا نازل ہوتی رہتی ہے، پھر اِس طرح تو تمام ساعتیں نحس قرار پائیں گی“۔ (روح المعانی)
اگلی تین آیات میں بدشگونی کے لیے ”تَطَیّ±ر“ اور ”طَآئِر“ کے کلمات آئے ہیں، سور الاعراف کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ فرعونیوں نے سیدنا موسیٰ اور ا±ن کے ساتھیوں کی طرف نحوست کی نسبت کی، پس انہیں بتایا گیا کہ تمہاری نحوست، تمہاری بداعمالیوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے یہاں م±قدر ہے۔ یاسین: 18-19 میں بتایا گیا کہ اہلِ انطاکیہ نے رسولوں سے کہا: ”ہم تم سے برا شگون لیتے ہیں“، اسی طرح النمل: 45-47 میں قومِ ثمود نے سیدنا صالح? اور ان کے ساتھیوں کی طرف نحوست کی نسبت کی، الغرض یہ ماضی کے کفار کا وتیرہ تھا کہ وہ ہدایت قبول کرنے کے بجائے انبیائے کرام? اور ان کے پیروکاروں کو نحس قرار دیتے تھے۔
حدیث پاک میں فرمایا: ” لَاطِیَرَ?َ“ یعنی کسی خاص مقام، دِن یا وقت کے حوالے سے شریعت میں نحوست یا بدشگونی کا کوئی تصور نہیں ہے، بلکہ ایک روایت میں آپ ? نے فرمایا: ”جو شخص کسی چیز سے بدش±گونی لے کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا، ا±س نے شرک کیا“۔ شرک کی صورت یہ ہے: کسی کا یہ عقیدہ ہوکہ اِس چیز یا واقعے کا ظہور اپنی ذات میں ناکامی کا سبب ہے اور اِس بناپر وہ اپنا پروگرام ملتوی کردے، تو گویا ا±س نے اعتقادی طور پر شرک کا ارتکاب کیا کہ غیر اللہ کو مو?ثر بالذات مانا، جیسے ہمارے ہاں بلی کے راستہ کاٹنے کو بھی نحس سمجھا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس رسول اللہ نے فرمایا: ”اسلام میں بدشگونی تو نہیں ہے، (البتہ) نیک فال لینا بہتر ہے، صحابہ نے پوچھا: ”نیک فال کیا ہے؟، آپ نے فرمایا: ہر وہ اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے“۔ (بخاری:) چنانچہ رسول اللہ نے بعض مواقع پر بعض امور کو نیک شگون قرار دیا، اس کے معنی یہ ہیں: ”کسی اچھی علامت کے نمودار ہونے پر ا±سے نیک فال قرار دیا جاسکتا ہے“، احادیث مبارکہ سے اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
جب صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش مکہ کا نمائندہ سہیل بن عَمرو مذاکرات کے لیے آیا، تو آپ نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے، صحابہؓ کرام نے بتایا: اس کا نام سہیل ہے، سہیل کا مادّہ ”سہل“ ہے اور اس کے معنی ہیں: آسانی، چنانچہ آپ نے سہیل کے نام سے نیک فال لیتے ہوئے فرمایا: ”اللہ نے تمہارا کام آسان کردیا ہے“۔ اِسی طرح سفرِ ہجرت کے موقع پر کفارِ مکہ نے رسول اللہ کو گرفتار کرنے والے کے لیے سو اونٹ انعام مقرر کیا تھا، ب±رَیدَہ اَسلَمِی اس انعام کی لالچ میں آپ کے تعاقب میں نکلا اور تلاش کرتے کرتے آپ کے قریب جا پہنچا، سیدنا ابوبکر صدیقؓنے خطرے کو بھانپا اور آپ کو اس خطرے کی جانب متوجہ کیا کہ ایک شخص ہمیں نقصان پہنچانے کی غرض سے ہمارے قریب آپہنچا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے، ا±س نے کہا: ب±رَیدہ، آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے ٹھنڈک کا سامان پیدا کردیا ہے“، ب±رَیدہ کا مادّہ ”بَرد“ ہے اور اس کے معنی ہیں: ٹھنڈک، پھر آپ نے ا±س سے پوچھا: تمہارا خاندان کیا ہے؟، ا±س نے کہا: ”بنو اسلم“، اِس پر آپ نے فرمایا: ہمیں سلامتی مل گئی“، کیونکہ اسلم کے معنی ہیں: ”خطرات سے محفوظ ہونا“، اس کا مادّہ ”سَلَم“ ہے، پھر آپ نے پوچھا: تمہارا قبیلہ کیا ہے، ا±س نے جواب دیا: بنو سہم، آپ نے فرمایا: تمہارا تیر نکل گیا (سہم کے معنیٰ ہیں: تیر)، چنانچہ ب±رَیدہ اور ا±ن کے سب ساتھی اسلام لے آئے“۔ (س±ب±ل الھدی والرشا د)رسول اللہ اچھے ناموں کو پسند فرماتے تھے اور بعض مواقع پر آپ نے ناموں کو تبدیل فرمایا۔ آپ نے ”بَرّہ“ نام کو تبدیل کرکے زینب اور جویریہ رکھا، اَصرم کو بدل کر ز±رعہ رکھا۔ اِسی طرح آپ نے ”عاص، عزیز، عَتَلہ، غ±راب، ح±باب اور شِہاب“ ناموں کو بھی بدلا۔ سعید بن م±سیّب نے بتایا کہ ا±ن کے دادا کا نام ”حَزن“ تھا (حزن کے معنی ہیں: سختی)، وہ حضور کے پاس آئے، آپ نے فرمایا: تمہارا نام سَہل ہے، ا±نہوں نے کہا: میں اپنے باپ کے رکھے ہوئے نام کو نہیں بدلوں گا، چنانچہ اِسی کا اثر ہے ہمارے خاندان کے مزاج میں سختی چلی آرہی ہے۔
(جاری ہے)

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *