ھانے کے بعد کچھ دیر کی چہل قدمی آپ کو کئی جان لیوا امراض سے بچا سکتی ہے۔
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
آئرلینڈ کی لیمرک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے بعد ہلکی پھلکی چہل قدمی، چاہے 2 سے 5 منٹ ہی کی کیوں نہ ہو، بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں کمی لاتی ہے۔
اس سے ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ انسولین وہ ہارمون ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ کھڑے ہونے اور چہل قدمی سے مسلز میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے، جو اس کام کے لیے گلوکوز کو استعمال کرتے ہیں اور بلڈ شوگر کی سطح کم ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلوکوز کی سطح عروج پر پہنچنے سے قبل اگر جسمانی سرگرمی کو معمول بنایا جائے تو صحت کے لیے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
کھانے کے 60 سے 90 منٹ کے بعد گلوکوز کی سطح عروج پر ہوتی ہے۔
تحقیق کے دوران 7 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کھڑے ہونے یا ہلکی پھلکی چہل قدمی کس حد تک جسم کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔
5 تحقیقی رپورٹس میں شامل افراد ذیابیطس ٹائپ 2 یا بلڈ شوگر زیادہ ہونے کا مسئلہ نہیں تھا جبکہ باقی 2 میں ذیابیطس کے مریضوں اور صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
ان افراد کو دن بھر میں ہر 20 سے 30 منٹ بعد 2 سے 5 منٹ کے لیے کھڑے ہونے یا چہل قدمی کی ہدایت کی گئی تھی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد کھڑا ہونا بیٹھنے سے بہتر ہوتا ہے اور کچھ دیر کی چہل قدمی سے صحت کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے کے بعد کچھ وقت کے لیے کھڑے ہونے سے بلڈ شوگر کی سطح بہتر ہوتی ہے مگر انسولین پر کوئی اثر نہیں ہوتا، جبکہ چہل قدمی سے بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں کمی آتی ہے۔
محققین نے کہا کہ کھانے کے بعد 60 سے 90 منٹ کے اندر چہل قدمی، گھر کے کام یا جسم کو کسی بھی وجہ سے حرکت دینا صحت کے لیے بہترین نتائج فراہم کرتا ہے۔

Leave a Reply