ذیابیطس ٹائپ 2 ایک ایسا دائمی مرض ہے جس کے شکار ہونے کے بعد اس سے نجات پانا ممکن نہیں بلکہ اسے طرز زندگی کی عادات اور ادویات کی مدد سے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس دائمی اور سنگین مرض کا سامنا ہر 10 میں سے ایک فرد کو ہوتا ہے اور دنیا بھر اس کے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مگر اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ طرز زندگی میں غذائی تبدیلیوں سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے مکمل نجات پانا ممکن ہے۔
درحقیقت کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ہائی بلڈ شوگر جیسے دائمی عارضے سے مکمل نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا ذیابیطس ٹائپ 2 سے محفوظ رکھنے میں Mediterranean سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
اسی طرح یہ غذائی عادت جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کا خطرہ بھی کم کرتی ہے جس کا بھی کوئی علاج ابھی دستیاب نہیں۔
اس تحقیق میں ایسے 42 افراد کو شامل کیا گیا تھا جو موٹاپے کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ شوگر اور جگر پر چربی کے عارضے کے شکار تھے۔
ان افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کرکے 3 غذائی پلانز کو اپنانے کی ہدایت کی گئی۔
ایک گروپ کو کیٹو ڈائٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا جس میں کاربوہائیڈریٹس (جیسے روٹی، چاول اور چینی) کا کم استعمال کیا جاتا ہے اور جسم توانائی کے لیے گلوکوز کی بجائے چربی کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔
دوسرے گروپ کو Mediterranean ڈائٹ جبکہ تیسرے کو کم چکنائی اور نباتاتی اشیا پر مشتمل غذائیں استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ان افراد کو تمام غذائیں تحقیقی ٹیم کی جانب سے فراہم کی گئی اور پھر 5 مہینوں تک ایسا کیا جاتا رہا۔

Leave a Reply