Daily Shujaat Quetta
August 27, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئےپاکستان کی سعودی عرب کیساتھ اقتصادی تعلقات کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی خواہشنبی کریم حضرت محمد مصطفیکی ولادت پوری انسانیت کےلئے عظیم نعمت ہےروز اول ہی کہاتھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہونگی،میرسرفرازبگٹیسرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں، شاہد رندعید میلاد النبی ہمیں انسانیت کی خدمت اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہے‘سردار عبیداللہ گورگیجمحکمہ بلدیات عوام کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہےصوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،سلیم احمد کھوسہصوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی کی ملاقاتچین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئےپاکستان کی سعودی عرب کیساتھ اقتصادی تعلقات کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی خواہشنبی کریم حضرت محمد مصطفیکی ولادت پوری انسانیت کےلئے عظیم نعمت ہےروز اول ہی کہاتھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہونگی،میرسرفرازبگٹیسرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں، شاہد رندعید میلاد النبی ہمیں انسانیت کی خدمت اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہے‘سردار عبیداللہ گورگیجمحکمہ بلدیات عوام کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہےصوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،سلیم احمد کھوسہصوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی کی ملاقات

شہداءکے لواحقین کےساتھ فوری طور پر باوقار، انسانی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے

جمعیت علماءاسلام بلوچستان نے شہدائے زیارت کے حوالے سے حکومت کے غیر انسانی، غیر ذمہ دارانہ اور بے حس رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس المناک سانحے کے پہلے دن سے لے کر آج تک حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مسلسل ان کی اذیت اور کرب میں اضافہ کیا ہے۔ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی، لیکن ہر مرحلے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گزشتہ روز شہداءکی لاشوں کی اطلاع ملنے کے بعد سے رات گئے تک انتظامیہ کی جانب سے مسلسل متضاد اطلاعات دی جاتی رہیں۔ کبھی منگلا اور کبھی کسی دوسری جگہ کا بتایا جاتا رہا، جس کے باعث لواحقین اور عوام شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور خواری کا شکار رہے۔ نہ حکومت کی جانب سے ایمبولینسوں کا مناسب انتظام کیا گیا، نہ ریسکیو کی کوئی مو¿ثر سہولت فراہم کی گئی، اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کی کسی قسم کی مدد کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ بالآخر عوام اور لواحقین نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر خود جائے وقوعہ کا رخ کیا اور دہشت گردوں کے نرغے سے اپنے پیاروں کی لاشیں واپس لائیں۔ وہ لاشیں ایسی تھیں جنہیں صرف شہید ہی نہیں کیا گیا تھا بلکہ انسانیت سوز انداز میں تیزاب سے بھی مسخ کیا گیا تھا۔ یہ منظر ہر صاحبِ دل انسان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔جمعیت علماءاسلام بلوچستان نے کہا کہ شہدا کی تدفین و تکفین کے لیے بھی حکومت نے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ لواحقین نے خود چندہ جمع کرکے اپنے پیاروں کی تدفین و تکفین کا انتظام کیا۔ ایمبولینسوں کی عدم دستیابی کے باعث شہداءکی لاشیں پک اَپ گاڑیوں میں منتقل کی گئیں، اور یہ المناک منظر پوری دنیا نے دیکھا۔ یہ صورتحال حکومت کی بے حسی، نااہلی اور متاثرہ خاندانوں سے لاتعلقی کا واضح ثبوت ہے۔پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ اس تمام دردناک صورتحال کے بعد بھی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے مزید مشکلات پیدا کیں۔ کوئٹہ کے نواحی علاقوں سرہ غوڑگئی اور نوا کلی میں جنازوں کے قافلوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، سول ہسپتال سے شیشے والے تابوت غائب کر دیے گئے، اور مختلف مراحل پر لاشوں کی تدفین کے لیے غیر ضروری دباو¿ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ یہ تمام اقدامات کئی سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں اور ان کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جب لواحقین اپنے شہدائکی لاشیں احتجاجی دھرنے کے لیے لے جا رہے تھے تو بلاجواز سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کرکے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ یہ رویہ نہ صرف غیر انسانی بلکہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے بے گناہوں کو قتل کیا جاتا ہے اور پھر ان کے لواحقین کو اپنے پیاروں پر گریہ کرنے اور انصاف کا مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں دیا جاتا۔جمعیت علماءاسلام بلوچستان نے اس امر پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا کہ آج صبح سے ہزار گنجی میں موجود کولڈ کنٹینر کو دھرنے کے مقام تک منتقل نہیں کیا گیا، جبکہ بروری میں پورا دن کنٹینر کھڑا رکھا گیا۔ حکومت کی یہ بے حسی اور انتظامی غفلت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے انہیں مزید اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ آج بھی درجن بھر سے زائد شہداءکی لاشیں دھرنے کے مقام پر موجود ہیں، مگر حکومت کے رویے میں سنجیدگی، احساسِ ذمہ داری اور انسانیت کا کوئی مظاہرہ نظر نہیں آتا۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ شہداءکے لواحقین کے ساتھ فوری طور پر باوقار، انسانی اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے، اس سانحے کے تمام پہلوو¿ں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنایا جائے۔جمعیت علماءاسلام بلوچستان نے واضح کیا کہ شہدائ کے لواحقین کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ غیر انسانی سلوک کسی مہذب، آئینی اور جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔ ایسے اقدامات عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کے دکھ اور غم میں مزید اضافہ کر رہے ہیں، جس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *