Daily Shujaat Quetta
August 26, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئےپاکستان کی سعودی عرب کیساتھ اقتصادی تعلقات کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی خواہشنبی کریم حضرت محمد مصطفیکی ولادت پوری انسانیت کےلئے عظیم نعمت ہےروز اول ہی کہاتھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہونگی،میرسرفرازبگٹیسرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں، شاہد رندعید میلاد النبی ہمیں انسانیت کی خدمت اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہے‘سردار عبیداللہ گورگیجمحکمہ بلدیات عوام کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہےصوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،سلیم احمد کھوسہصوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی کی ملاقاتچین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیاایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پرمتفق ہوگئےپاکستان کی سعودی عرب کیساتھ اقتصادی تعلقات کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی خواہشنبی کریم حضرت محمد مصطفیکی ولادت پوری انسانیت کےلئے عظیم نعمت ہےروز اول ہی کہاتھا کہ سرکاری ملازمتیں فروخت نہیں ہونگی،میرسرفرازبگٹیسرکاری ملازمت کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں، شاہد رندعید میلاد النبی ہمیں انسانیت کی خدمت اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتی ہے‘سردار عبیداللہ گورگیجمحکمہ بلدیات عوام کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہےصوبے میں جاری وفاقی منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ،سلیم احمد کھوسہصوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری سے صوبائی مشیر سردار بابا غلام رسول عمرانی کی ملاقات

اسلامی عبادات: رضائے الٰہی کا حصول اور جسمانی صحت کے انمول فوائد

کالم:محمد حسین محنتی
اسلامی عبادات انسان کا اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد رکھنے اور اس سے ہر وقت تعلق جوڑے رکھنے کے لیے فرض کی گئی ہیں۔ یہ عبادات محض چند بے جان حرکات و سکنات کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ یہ ربّ العالمین کی طرف سے انسان کی ظاہری اور باطنی اصلاح کا ایک مربوط اور ہمہ گیر نظام ہے۔ ان عبادات کا بنیادی مقصد انسان کا اپنے ربّ سے تعلق مضبوط کرنا، روح کی پاکیزگی حاصل کرنا اور تقویٰ کی بنیاد پر ایک صالح معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس میں عبادات محض چند مذہبی رسوم یا ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک اخلاقی، روحانی، سماجی اور مکمل تربیتی نظام ہے۔ اسلام کی بنیادی عبادات، یعنی نماز، روزہ، زکوٰ اور حج، انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے، اس کے باطن کو پاک کرنے، اس کے کردار کو سنوارنے اور اسے ایک صالح، باکردار اور مفید انسان بنانے کے لیے فرض کی گئی ہیں۔ ان عبادات کا مقصد صرف آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا میں بھی انسان کو ایک متوازن، صحت مند، پرامن اور باوقار زندگی عطا کرنا ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں نے جنوں اور انسا نو ں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے“۔ (الذاریات: 56) اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت انسان کی زندگی کا اصل مقصد اور اس کی شخصیت کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسلام کی عبادات انسان کو صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی نہیں سکھاتیں بلکہ اس کے دل، دماغ، جسم، اخلاق، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کا بھی مکمل نظام فراہم کرتی ہیں۔
اسلامی عبادات کا پہلا اور سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی بندگی کا حق ادا کرنا ہے۔ ان عبادات کے ذریعے انسان میں تقویٰ، تزکیہ نفس، اخلاص، صبر، شکر، قناعت، توکل، ایثار، دیانت، امانت، نظم و ضبط اور خود احتسابی جیسی عظیم صفات پیدا ہوتی ہیں۔ عبادات انسان کے دل کو تکبر، حسد، بخل، حرص، خود غرضی اور دیگر اخلاقی بیماریوں سے پاک کرتی ہیں اور اسے محبت، رحم، عدل، خدمت ِ خلق اور خیر خواہی کا پیکر بناتی ہیں۔ یوں اسلامی عبادات پورے معاشرے پر فرض قرار دی گئی ہیں اس لیے فرد کی اصلاح کے ساتھ ایک صالح منصفانہ اور فلاحی معاشرے کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔ اسلام میں عبادات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جدید طبی اور نفسیاتی تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ ان عبادات میں انسانی صحت اور تندرستی کے انمول خزانے پوشیدہ ہیں۔ آج کے سائنسی دور میں جب دنیا بھر کے ماہرین طب اور نفسیات ان عبادات کے فوائد کا اعتراف کررہے ہیں تو یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ہمارا دین اسلام چودہ سو سال پہلے ہی ان اصولوں کی تعلیم دے چکا ہے۔ نماز دین کا ستون، روزہ تقویٰ کی تربیت، زکوٰ مال اور نفس کی پاکیزگی جبکہ حج امت ِ مسلمہ کے اتحاد، مساوات اور عالمی اخو ت کی عظیم علامت ہیں۔ یہی عبادات انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے تابع بنا دیتی ہیں۔ وہ انسان کو بے مقصد زندگی، مادہ پرستی اور نفسانی خواہشات کی غلامی سے نکال کر ایک بامقصد، باکردار اور متوازن زندگی عطا کرتی ہیں۔ اسلامی عبادات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے اثرات صرف روحانی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ انسان کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، اخلاقی، معاشرتی اور حتیٰ کہ معاشی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہی جامعیت اسلام کو دیگر نظام ہائے حیات سے ممتاز کرتی ہے۔
اسلامی عبادات انسان کو ایک ایسا طرزِ زندگی عطا کرتی ہیں جو جسمانی صحت کے بنیادی اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو نماز جسمانی اعتبار سے ایک متوازن اور ہلکی پھلکی ورزش بھی محسوس ہوتی ہے۔ قیام، رکوع، سجدے اور قاعدہ میں جسم کے تقریباً تمام بڑے عضلات اور جوڑ حرکت کرتے ہیں۔ اس سے گردن، کمر، کولہے، گھٹنے اور ٹخنے نرم اور متحرک رہتے ہیں۔ جسم میں اکڑاوکم ہوتا ہے اور بڑھاپے میں جوڑوں کی سختی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ رکوع اور سجدہ خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں۔ سجدے کے دوران سر کا دل سے نیچے ہونا دماغ تک خون کی بہتر فراہمی میں معاون بنتا ہے۔ جس سے ذہنی تازگی، یکسوئی اور یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں فالج جیسی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ پانچ وقت نماز کے لیے وضو کرنا ہاتھوں، منہ، ناک، چہرے اور پاوں کی صفائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ذاتی صفائی کی ایسی عادت پیدا کرتا ہے جس سے بہت سے جراثیم اور متعدی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ خون کی گردش بہتر بنانے، اعصابی تناو کم کرنے اور ذہنی سکون فراہم کرنے میں مددگار ہے۔ وضو صفائی اور طہارت کی ایسی عادت پیدا کرتی ہے جو بہت سی بیماریوں سے حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے۔ وضو باقاعدگی سے کرنے سے جلد کی صفائی، جراثیم سے بچاو اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ نماز کی حرکات ریڑھ کی ہڈی کی لچک برقرار رکھتی ہے ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتی ہے اور جوڑوں کے درد میں کمی لاتی ہے۔
روزہ اسلام کا وہ رکن ہے جس میں مسلمان ماہ رمضان میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر نفسانی خواہشات سے رکے رہتے ہیں۔ اس کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ روزہ نظامِ ہضم کو آرام دیتا، کھانے پینے میں اعتدال پیدا کرتا، وزن کو متوازن رکھنے، جسمانی چربی میں کمی اور میٹابولک صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید طب روزے کے متبادل کے طور پر ”انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ“ کے نام سے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کر رہی ہے۔ روزہ رکھنے سے جسم میں موجود زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں جسے سائنسی زبان میں ڈیٹوکسیفیکسن کہا جاتا ہے۔
اس دوران جسم کے خلیات خود کی مرمت کرتے ہیں جسے آٹوفیجی کا عمل کہا جاتا ہے۔ جو کینسر و دیگر مہلک امراض سے بچاومیں معاون ثابت ہوتا ہے۔ روزہ خون میں شکر کی مقدار کو متوازن رکھتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر آج کل ذیابطیس کے مریضوں کو روزہ رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ روزہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ جگر اور معدے کو آرام دیکر ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے علاوہ روزہ جسم میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ جس سے انسان مختلف بیماریوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے۔
زکوٰ اسلام کا وہ رکن ہے جس میں صاحب استطاعت مسلمان اپنے مال کا مقررہ حصہ غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کرتا ہے اس کا مقصد مال کی پاکیزگی، معاشرے میں معاشی توازن قائم رکھنا اور دولت کو چند ہاتھوں تک محدود ہونے سے بچانا ہے۔ زکوٰانسان کو بخل اور لالچ سے پاک کرکے سخاوت و ایثار کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ”مال چھن جانے کا خوف“ اور ”دوسروں کو دینے کی عادت“ سے انسانی دماغ میں خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو نارمل رکھتے ہیں دل کی دھڑکن کو متوازن کرتے ہیں اور انسان کو مایوسی و ڈپریشن سے محفوظ رکھ کر جسمانی چستی و تندرستی عطا کرتے ہیں۔ معاشرے میں غربت کم ہونے سے غذائی قلت، بیماری، ذہنی دباو اور محرومی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ اس طرح زکوٰ نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی صحت بہتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ حج اللہ کی کامل اطاعت، امت مسلمہ کے اتحاد، مساوات، صبر، قربانی اور اخلاص کا عملی مظہر ہے۔ حج جیسی مالی اور بدنی عبادت انسان کے اندر جسمانی برداشت اور قوت مدافعت کو انتہائی بلندی پر لیے جاتا ہے۔ حج کے دوران طواف، سعی، عرفات، مزدلفہ اور منی و دیگر مراحل میں مسلسل پیدل چلنا جسمانی سرگرمی کو بڑھتا ہے۔ جس سے دل، پھیپھڑوں، ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد ملتی ہے۔ مناسک حج جسمانی برداشت، قوت اور فٹنس میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسلام عبادات میں صفائی، پاکیزگی، نشہ آور اشیاءسے اجتناب، حلال و طیب غذا، جسمانی طہارت اور متوازن طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔یہ تمام اصول جدید طبی سائنس کے مطابق صحت مند زندگی کی بنیادی شرائط ہیں۔ اس طرح اسلامی عبادات نہ صرف جسم کو فعال و متحرک رکھتی ہیں بلکہ بہت سی بیماریوں کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں ذہنی دباو?، بے چینی، خوف، ڈپریشن، مایوسی اور تنہائی پوری دنیا کے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ اسلامی عبادات انسان کو اللہ تعالیٰ پر اعتماد، امید، سکون اور اطمینان عطا کرتی ہیں۔ نماز دل کو اللہ کے ذکر سے زندہ کرتی اور ذہنی یکسوئی پیدا کرتی ہے۔ روزہ قوتِ ارادی، ضبطِ نفس اور صبر کی تربیت دیتا ہے۔ زکوٰ? سخاوت اور خدمت ِ خلق کے ذریعے دل کو بخل، حرص اور خود غرضی سے پاک کرتی ہے، جبکہ حج عاجزی، اخوت اور عالمگیر اسلامی اتحاد کا نمونہ پیش کرتا ہے اسلامی عبادات درحقیقت انسان کی مکمل شخصیت کی تعمیر کا الٰہی نظام ہیں۔ ان کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ، تزکیہ? نفس اور آخرت کی کامیابی ہے، لیکن ان کے نتیجے میں انسان کو جسمانی صحت، ذہنی سکون، نفسیاتی توازن، اخلاقی بلندی، خاندانی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی اور اجتماعی خوش حالی کی عظیم نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان عبادات کو شعور، اخلاص اور سنتِ نبوی کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت اور توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو آخرت کی کامیابیوں کا سبب بنائے اور مکمل صحت و تندرستی سے نوازے تاکہ ہم آخری دم تک فریضہ اقامت دین کی جدو جہد کرتے ہوئے اپنی جان جان آفریں پر نچھاور کردیں۔ آمین

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *