وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس بدھ کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں عوامی فلاح، امن و امان، تعلیم، بلدیاتی نظام، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اجلاس کے آغاز میں مختلف واقعات میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں اور سویلین شہداءکے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی صوبائی کابینہ نے محنت کش طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے چیف منسٹر اسکالرشپ پروگرام کے فیز تھری کی منظوری دی، جس کے تحت بلوچستان کے رجسٹرڈ مزدوروں کے 300 بچوں کو اسلام آباد کے معیاری بورڈنگ اسکول میں داخلہ دیا جائے گا تاکہ انہیں اعلیٰ معیار کی تعلیم اور بہتر مستقبل کے مواقع میسر آ سکیں بلدیاتی اداروں کو مزید فعال بنانے کے لیے کابینہ نے یونین کونسل میسی زئی اور یونین کونسل مئی زئی کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے جبکہ گلستان میں نئی میونسپل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی امن و امان کے نظام کو مزید مضبوط اور مو¿ثر بنانے کے لیے صوبائی کابینہ نے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد پورے صوبے کو باقاعدہ پولیس ایریا قرار دینے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے ایس پی نبیل احمد کو بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا چیف آپریٹنگ آفیسر تعینات کرنے کی بھی منظوری دی، جبکہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی سفارشات کے مطابق پیرول بورڈ کی تشکیل کی منظوری بھی دے دی گئی کابینہ نے ضلع حب کے ماربل سٹی کے مقام پر نئے پولیس اسٹیشن کے قیام کی منظوری بھی دی تاکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے کے نظام کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے اجلاس میں صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی اور مو¿ثر عملدرآمد کے لیے بلوچستان پلاننگ مینوئل کی منظوری دی گئی۔
حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان

Leave a Reply