کالم:پروفیسر مسعود اختر ہزاروی
اس کے ساتھ ساتھ پولیس نے صرف گرفتاریاں کرنے کے بجائے کمیونٹی کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش بھی شروع کی ہے۔ مختلف اسکولوں، کالجوں اور یوتھ کلبوں میں پولیس افسران نوجوانوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، انہیں قانونی نتائج سے آگاہ کرتے ہیں اور تشدد سے دور رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس سوچ کے پیچھے یہ تصور کارفرما ہے کہ اگر نوجوان پولیس کو صرف سزا دینے والا ادارہ سمجھیں گے تو وہ کبھی اس پر اعتماد نہیں کریں گے، لیکن اگر پولیس ان کی رہنمائی اور مدد بھی کرے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے برطانیہ کے مختلف علاقوں میں Violence Reduction Units بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں پولیس، سماجی کارکن، ماہرینِ تعلیم، ڈاکٹروں اور ذہنی صحت کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے تاکہ مسئلے کو صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی اور انسانی زاویے سے بھی دیکھا جا سکے۔
حکومت نے بھی چاقو برداری کے خلاف متعدد قوانین متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت غیر قانونی ہتھیار رکھنے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض علاقوں میں خصوصی مہمات، آگاہی پروگرام اور نوجوانوں کی بحالی کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف سخت قانون کسی معاشرے کو محفوظ نہیں بنا سکتا۔ اگر غربت، بے روزگاری، تعلیمی محرومی، خاندانی مسائل اور ذہنی دبا جیسے بنیادی اسباب اپنی جگہ موجود رہیں تو ہر سال نئے نوجوان جرائم کی اسی دنیا میں داخل ہوتے رہیں گے۔ اسی لیے قانون کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح، بہتر تعلیم، روزگار کے مواقع اور مضبوط خاندانی نظام پر بھی یکساں توجہ دینا ناگزیر ہے۔
برطانیہ میں بڑھتے ہوئے چاقو کے جرائم کی روک تھام صرف حکومت، پولیس یا عدالتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی قانون اس وقت تک مکمل طور پر مثر ثابت نہیں ہو سکتا جب تک معاشرے کے تمام طبقات اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کریں۔ اگر گھر، اسکول، مسجد، کمیونٹی سینٹر، سماجی تنظیمیں اور سرکاری ادارے ایک دوسرے سے الگ الگ کام کرتے رہیں تو مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا، لیکن اگر یہ تمام قوتیں ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو حالات میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
اس جدوجہد کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی زندگی کے پہلے معلم اور سب سے بڑے محافظ ہوتے ہیں۔ انہیں صرف اپنے بچوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی ذہنی، اخلاقی اور جذباتی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بچوں کے ساتھ روزانہ کچھ وقت گزارنا، ان کے دوستوں کو جاننا، ان کی دلچسپیوں سے واقف رہنا اور ان کی پریشانیوں کو توجہ سے سننا ایسے اقدامات ہیں جو انہیں غلط راستے پر جانے سے بچا سکتے ہیں۔
اکثر والدین اس وقت متوجہ ہوتے ہیں جب حالات ان کے قابو سے باہر نکل چکے ہوتے ہیں، حالانکہ بچوں کے رویے میں آنے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں مستقبل کے بڑے خطرات کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ اچانک غصہ بڑھ جانا، گھر والوں سے دوری اختیار کرنا، مشکوک دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، تعلیم میں دلچسپی ختم ہو جانا یا غیر معمولی رازداری اختیار کرنا ایسے اشارے ہیں جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسکول اور کالج نوجوانوں کی شخصیت سازی کے مراکز ہوتے ہیں۔ اگر یہی ادارے طلبہ کو برداشت، مکالمے، اختلافِ رائے کے آداب، قانون کی پاسداری اور تنازعات کے پرامن حل کی تربیت دیں تو معاشرے میں تشدد کے رجحانات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر تعلیمی ادارے میں ذہنی صحت، جذباتی نشوونما اور کردار سازی کو بھی نصابی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔ ایسے طلبہ جو ذہنی دبا، گھریلو مسائل یا سماجی تنہائی کا شکار ہوں، ان کی بروقت رہنمائی اور کونسلنگ کا مثر نظام موجود ہونا چاہیے تاکہ وہ جرم کی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے ہی سہارا حاصل کر سکیں۔مساجد، دینی مراکز اور مذہبی رہنماں کی ذمہ داری بھی اس سلسلے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام انسان کی جان کو انتہائی محترم قرار دیتا ہے۔ قرآنِ کریم ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیتا ہے، جبکہ ایک جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف بیان کرتا ہے۔ یہ تعلیم نوجوانوں کے دلوں میں انسانی جان کی حرمت، رحم، صبر، برداشت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کے مراکز بھی ہیں۔ اگر ائمہ، خطبا اور دینی رہنما نوجوانوں کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ان سے مسلسل رابطہ رکھیں، ان کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں شریک کریں تو بہت سے نوجوان گینگ کلچر اور تشدد کی راہ اختیار کرنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ دینی تعلیم کو عصرِ حاضر کے سماجی مسائل سے جوڑ کر پیش کیا جائے تاکہ نوجوان اسلام کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں محسوس کر سکیں۔
کمیونٹی تنظیمیں بھی اس جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مقابلے، مطالعے کے حلقے، رضاکارانہ خدمات، ہنر سکھانے کے پروگرام، فنی تربیت، قیادت سازی کے کورسز اور سماجی سرگرمیاں انہیں مثبت مصروفیات فراہم کرتی ہیں۔ جب نوجوان اپنی صلاحیتوں کو تعمیری میدانوں میں استعمال کرتے ہیں تو ان کے لیے جرائم کی دنیا اپنی کشش کھو دیتی ہے۔حکومت کی ذمہ داری صرف سزائیں دینا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جن میں نوجوان باعزت زندگی گزار سکیں۔ پسماندہ علاقوں میں بہتر تعلیمی سہولیات، روزگار کے مواقع، نوجوانوں کے لیے تربیتی مراکز، ذہنی صحت کی خدمات، کھیلوں کے میدان اور کمیونٹی سینٹرز قائم کرنا ایک محفوظ معاشرے میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔ اگر ایک نوجوان کو اچھی تعلیم، مناسب روزگار اور روشن مستقبل کی امید مل جائے تو اس کے جرم کی طرف مائل ہونے کے امکانات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔اس کے ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ایسی ویڈیوز، موسیقی، تصاویر اور مواد جو تشدد، نفرت اور گینگ کلچر کو فروغ دیتے ہوں، ان کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ نوجوان جو جرم کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے، ہمیشہ کے لیے کھو نہیں جاتا۔ بہت سے نوجوان مناسب رہنمائی، محبت، تعلیم اور اعتماد ملنے پر اپنی زندگی کا رخ بدل لیتے ہیں۔ اس لیے بحالی کے پروگراموں کو بھی قومی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ معاشرے کو سزا کے ساتھ اصلاح اور واپسی کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہیے، کیونکہ مایوس انسان آسانی سے دوبارہ جرم کی طرف لوٹ سکتا ہے، جبکہ امید یافتہ انسان اپنی زندگی بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔آج برطانیہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے صرف جرائم کا مقابلہ نہیں کرنا بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اسکول جائیں، والدین اطمینان کے ساتھ انہیں گھر سے رخصت کریں اور نوجوان اپنی توانائیاں تعمیر و ترقی میں صرف کریں، تو ہمیں اجتماعی سطح پر اس مسئلے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔یہ ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل ناممکن ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے ہمیشہ کامیاب رہے ہیں جنہوں نے اپنے نوجوانوں کو مسئلہ سمجھنے کے بجائے اپنی سب سے قیمتی متاع سمجھا۔ آج بھی اگر حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیمی مراکز، مذہبی قیادت، والدین، میڈیا اور خود نوجوان ایک مشترکہ وڑن کے تحت آگے بڑھیں تو ایسا برطانیہ تعمیر کیا جا سکتا ہے جہاں کسی نوجوان کو اپنی حفاظت کے لیے چاقو اٹھانے کی ضرورت محسوس نہ ہو، جہاں قانون کا احترام خوف سے نہیں بلکہ شعور سے کیا جائے، اور جہاں ہر بچہ امن، عزت، امید اور محفوظ مستقبل کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر طے کر سکے۔
یہی وہ منزل ہے جس کے لیے اجتماعی شعور، مسلسل جدوجہد اور مشترکہ ذمہ داری کا احساس ناگزیر ہے۔ جب معاشرہ اپنے نوجوانوں کو سننا، سمجھنا اور سنوارنا شروع کر دیتا ہے تو پھر تشدد کے اندھیرے خود بخود چھٹنے لگتے ہیں، اور امن، اعتماد اور انسانیت کی روشنی پورے معاشرے کو منور کر دیتی ہے۔
برطانیہ میں بڑھتے ہوئے چاقو کے جرائم
adminshuja
← پچھلی خبر
خطرات کاتوازن

Leave a Reply